گورنر ہائوس پشاور میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے خصوصی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی ایڈوائزرز، اعلی سول و پولیس افسران اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ایڈوائزر ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کفایت اللہ خان اور سیکرٹری ہوم امجد علی خان نے شرکا ء کو صوبے میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو درپیش مسائل، دستیاب وسائل اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں گورنر فیصل کریم کنڈی، ایڈوائزر ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کفایت اللہ خان، سیکرٹری ہوم امجد علی خان اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس عباس احسن نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دئیے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں ضم شدہ اضلاع کیلئے مجموعی سیکیورٹی بجٹ کا صرف 3.2 فیصد مختص کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کو 10,587 اور سی ٹی ڈی کو 638 اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔ پولیس کو 36 فیصد آپریشنل ٹرانسپورٹ کی کمی ہے جبکہ صرف 12 فیصد فورس کو اینٹی ڈرون سسٹم کی سہولت حاصل ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پولیس میں ضم ہونے والے 15,186 خاصہ دار اہلکاروں کی اکثریت ناخواندہ ہے، جس سے تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے اضافی چیلنجز درپیش ہیں۔بریفنگ میں انسداد دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کی بھی نشاندہی کی گئی اور بتایا گیا کہ منظور شدہ 6.4 ارب روپے میں سے صرف ایک ارب روپے جاری کیے جا سکے ہیں۔شرکا کو بتایا گیا کہ 2024 سے ستمبر 2026 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کے 1,003، پولیس کے 627 اہلکار اور 808 شہری شہید ہوئے، جبکہ صرف 2026 میں ستمبر تک 255 فوجی اہلکار، 302 پولیس اہلکار اور 304 شہری شہید ہوئے۔ نامساعد حالات اور بے شمار قربانیوں کے باوجود گزشتہ تین سال کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 3,788 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔مستقبل کے سیکیورٹی منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ مضبوط خیبرپختونخوا منصوبے کے تحت صوبے میں سکیورٹی کیلئے 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں پولیس کیلئے 59.8 ارب روپے اور سی ٹی ڈی کے لیے 10.3 ارب روپے رکھے جائیں گے، جبکہ گزشتہ 10 سال کے دوران سیکیورٹی کے شعبے میں مجموعی طور پر 98 ارب روپے خرچ کیے گئے۔منصوبے کے تحت پولیس کی فورٹیفکیشن کی صلاحیت 75 فیصد، نگرانی کی استعداد 15 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد اور رات کے وقت آپریشن کرنے کی صلاحیت 18 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح پولیس کی اینٹی ڈرون صلاحیت ایک فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد، سی ٹی ڈی کی گاڑیوں کی آرمر صلاحیت 16 فیصد سے 70 فیصد اور جیمرز کی دستیابی 3 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ سی ٹی ڈی کا دائرہ کار 34 اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے 10 اضلاع میں ڈسٹرکٹ نروو سینٹرز اور سیف سٹیز اتھارٹی قائم کی جائے گی، جبکہ پولیس نفری کی کمی کا تناسب 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے







