پشاور ہائیکورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی درخواستیں غیر موثر قرار

پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی آئینی بنچ کے احکامات کی روشنی میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ سمیت تین ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کےخلاف دائر رٹ درخواستیں کاز لسٹ سے ڈی لیٹ کردی ہیں۔‏ان میں وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر کی بازیابی کی درخواستیں بھی کاز لسٹ سے ڈی لیٹ کردی گئی ہیں اور وفاقی ائینی بنچ کے فیصلے کے بعد یہ درخواستیں تاحکم ثانی نہیں سنی جاسکیں گی۔‏ پشاور ہائیکورٹ میں ایمرجنسی اور گورنر راج نفاذ کے خلاف پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹرگوہرعلی خان، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کے علاوہ خیبر پختونخوا بارکونسل، نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے چیئرمین محسن داوڑاور ممبر قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نےبھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا یے۔‏ تاہم پشاور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے وفاقی آئینی بنچ کے احکامات کی روشنی میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے12 اکتوبر اور اس کے بعد دائر رٹ پٹیشنز سماعت کے لئے مقرر نہ کرنے کی ہدایات جاری کئے ہیں اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست بھی واپس ہوگی جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے گورنر راج، ایمرجنسی نفاذ کے خلاف تمام درخواستیں کاز لسٹ سے ڈی لیٹ کردی ہیں۔‏وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو تھری ایم پی او سمیت دیگررٹ درخواستوں پر بھی سماعت سے روک دیاتھا۔‏پشاور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے اپنی ہدایات میں درخواست گزاروں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایات جاری کئے ہیں۔‏واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر صوبے میں ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کےبعد 12 اکتوبر2026 یا اس کے بعد آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر تمام ائینی درخواستوں کی سماعت روک دی ہے اور قرار دیاہے کہ نئی رٹ درخواستیں بھی وصول نہیں کی جائیں گی۔‏

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed