خاتون کا قتل’ ملزم کی بریت کا فیصلہ کالعدم ‘ عمر قید اور 9 لاکھ جرمانہ

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ نے نے دوستی سے انکار پر گھر میں گھس کر فائرنگ کرنے اور خاتون کو قتل کرنے کے مقدمے میں بری ہونے والے ملزم کی بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے عمر قید اور دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 12 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے ملزم کو مجموعی طور پر 9 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ فیصلے کے بعد پولیس نے ملزم شاہ وید کو حراست میں لے کر جیل منتقل کردیا۔جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے ملزم کی بریت کے خلاف دائر اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی اوع قرار دیا کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف قابل اعتماد اور ٹھوس شواہد پیش کرکے اپنا مقدمہ کامیابی سے ثابت کیا، تاہم ٹرائل کورٹ نے شواہد کے مختلف پہلوں کا درست تناظر میں جائزہ نہیں لیا اور مجموعی شواہد کے اثرات کو نظر انداز کردیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق واقعہ 16 اپریل 2016 کو ضلع کوہاٹ میں تھانہ استرزئی کی حدود میں پیش آیا، جہاں ملزم شاہ وید نے بہلول احسان کی جانب سے مبینہ طور پر دوستی سے انکار پر مدعی کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مدعی بہلول احسان کی والدہ جاں بحق جبکہ وہ اور اس کی بہن شدید زخمی ہوگئے تھے۔فیصلے کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہاٹ نے یکم جون 2019 کو ملزم کو مقدمے سے بری کردیا تھا، جس کے خلاف مدعی مقدمہ نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔پشاور ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیشن کورٹ شواہد کا مجموعی طور پر جائزہ لینے میں ناکام رہی اور دستیاب شہادتوں کے مجموعی اثر کو نظر انداز کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کی بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے قتل کے جرم میں عمر قید جبکہ دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 12 سال قید کی سزا سنادی۔ عدالت نے قتل، اقدام قتل اور دیگر جرائم کے تحت مجموعی طور پر 9 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed