پشاور کی خصوصی انسدادِ منشیات عدالت نے منشیات سمگلنگ کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم گل زیب کو عمر قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ عدالت نے جعلی چیسیس نمبر والی گاڑی چلانے اور اسے اصل ظاہر کرکے استعمال کرنے کے جرم میں بھی ملزم کو 7 سال قید بامشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی، تاہم دونوں سزائیں بیک وقت جاری رہیں گی۔خصوصی عدالت کی جج سُنبل نصیر نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ کسی شک و شبہے کے بغیر ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ریکارڈ پر موجود شواہد ملزم کو جرم سے منسلک کرتے ہیں۔استغاثہ کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی ٹیم نے 25 اگست 2022 کو نوشہرہ میں جی ٹی روڈ پر اکوڑہ خٹک کے مقام پر خوشحال خان خٹک میموریل لائبریری کے قریب ایک فورڈ ویگن کو روک کر تلاشی لی تھی۔ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود شخص نے اپنا نام گل زیب بتایا۔ گاڑی میں بھوسے کی بوریوں کے نیچے چھپائی گئی بوریوں سے 84 کلو چرس اور 18 کلو افیون برآمد ہوئی تھی۔اے این ایف نے ملزم کے خلاف انسدادِ منشیات قانون اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ملزم کا تعلق مانسہرہ سے بتایا گیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ملزم سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی اور اے این ایف حکام کی جانب سے اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کا کوئی بدنیتی پر مبنی محرک سامنے نہیں آیا۔ دفاع کی جانب سے تفتیشی دستاویزات میں بعض تضادات کی نشاندہی پر عدالت نے قرار دیا کہ دستاویزات میں معمولی خامیاں منشیات کی برآمدگی، تحویل اور بروقت کیمیائی تجزیے سے متعلق ٹھوس شواہد کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔عدالت نے مقدمے میں مفرور دو ملزمان، نیک محمد اور عمران علی، دونوں ساکنان ضلع خیبر، کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے







