گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، امن و امان کے قیام اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں مجبوراً ایمرجنسی و گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء تک فورسز اور عوام کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں صوبے میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا، تاہم سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں غلط پالیسیوں کے باعث دہشت گردوں کو دوبارہ آنے کا موقع ملا اور پولیس کی 5 ہزار خالی اسامیوں پر بھی بھرتی نہیں کی گئی۔شہباز شریف نے بتایا کہ 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، مگر اس کے باوجود سیف سٹی منصوبہ اور پولیس کی جدید تربیت و اسلحہ فراہمی التوا کا شکار رہی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے بعد خیبرپختونخوا میں جاری خونریزی کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا، اسی لیے صدر مملکت سے مشاورت اور سیاسی کمیٹی کی محنت کے بعد سخت فیصلے کیے گئے اور اب ماہرین پر مشتمل مشاورتی کونسل تشکیل دی جا چکی ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔







