ڈاکٹر نوشیروان برکی کے زیر انتظام لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں لوٹ مار کا انکشاف ہوا ہے جب کہ ہسپتال کی 100 سالہ تاریخ میں اقربا پروری کی انوکھی مثال قائم کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اہم ترین عہدے ہسپتال ڈائریکٹر بھرتی پر سنگین اعتراضات سامنے آئے، محمد طارق، ڈاکٹر نوشیروان برکی کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے ہیں اس لئے اہم ترین عہدے سے نوازا گیا، اقربا پروری سے صوبائی خزانہ کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں سنگین اعتراضات کے بعد اعلی سطح انکوائری، نیب اور محکمہ انسداد بدعنوانی سے تحقیقات اور رقم وصولی کی سفارش کے باوجود پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے مذکورہ رقم وصول کرنے کے بجائے بطور انعام انہیں پورے ہسپتال کی قیادت حوالے کردی، ہسپتال کی 100 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سیاسی بنیادوں پر ایک عام آدمی کو ہسپتال کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور سکول سانحہ میں زخمی بچوں کی عیادت کیلئے پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ہسپتال ڈائریکٹر خود ہی ڈاکٹر نہیں، ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق محمد طارق کو 16جنوری 2017کو سلیکشن اینڈ پروموشن کمیٹی کے ذریعے ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔
محمد طارق کی مقررہ تنخواہ 5 لاکھ 8ہزار 892روپے ماہانہ کے حساب سے اگست 2019تک 43ماہ کے دوران مجموعی طور پر 2کروڑ 18لاکھ 82ہزار 356روپے ادا کئے گئے، آڈٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مذکورہ آسامی کیلئےہسپتال یا ہیلتھ سروسز مینجمنٹ، بزنس مینجمنٹ، پبلک ہیلتھ یا پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری اور انتظامی سطح پر کم از کم 7سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا تھا۔
تاہم متعلقہ افسر نے 2010 میں ایم بی اے کیا تھا اور آڈٹ کے مطابق درخواست اور تقرری کے وقت ان کا بعد از ڈگری تجربہ مطلوبہ 7سال سے کم تھا، رپورٹ میں تعلیمی اسناد اور تجربے کے سرٹیفکیٹس میں بھی متعدد تضادات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
آڈٹ کے مطابق امیدوار کے سی وی اور تجربہ سرٹیفکیٹس میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ادارے سہارا میں ملازمت کی مدت مختلف درج تھی۔
دونوں اداروں میں ملازمت کی مدت کے درمیان بظاہر تضاد بھی سامنے آیا، آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سہارا میں تجربے کا ایک سرٹیفکیٹ 16دسمبر 2008کو جاری ہوا جبکہ اس میں درج ملازمت کی مدت 20جنوری 2009تک بتائی گئی تھی۔
آڈٹ نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں انتخاب کا عمل مشکوک اور غیر شفاف دکھائی دیتا ہے اور مطلوبہ بعد از ڈگری تجربہ نہ ہونے کے باوجود تعیناتی کے ذریعے اہل امیدواروں کو محروم رکھا گیا، آڈٹ نے سفارش کی تھی کہ معاملے کی اعلی سطح پر انکوائری کرائی جائے۔
نیب، محکمہ انسداد بدعنوانی اور حکومتی انسپکشن ٹیم کے ذریعے الزامات کی تحقیقات کی جائیں اور قواعد کے مطابق رقم کی ریکوری کا جائزہ لیا جائے۔







