پشاور ہائیکورٹ نے پشاور کے علاقے ورسک روڈ کی ۴ کنال ۱ مرلہ اراضی کا قبضہ خاتون کو دلانے کے حوالے سے صوبائی خاتون محتسب کے جاری کردہ حکم نامے کو معطل کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر کے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس نعیم انور نے کی، جہاں درخواست گزار افتخار احمد کی جانب سے ہما امان ایڈوکیٹ نے موقف پیش کیا۔ فاضل کونسل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی ورسک روڈ پر واقع زمین وراثتی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ معاہدی خریداری کے تحت ان کی ملکیت ہے۔ تاہم موکل کی بہن نے خاتون محتسب کو درخواست دی جس پر بغیر نوٹسز جاری کیے اور بغیر سماعت کا موقع دیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا اور ۱۶ ستمبر کو ۸۱ مرلے زمین کا قبضہ خاتون کو منتقل کر دیا گیا، جبکہ کیس میں بحث کے لیے ۲۳ ستمبر کی تاریخ مقرر تھی۔وکیل صفائی نے نقطہ اٹھایا کہ دیوانی نوعیت کے تنازعات کے لیے باقاعدہ فریقین کی شہادتیں اور بیانات قلمبند کرنا قانونی تقاضا ہوتا ہے، تاہم محتسب نے جلد بازی میں یکطرفہ فیصلہ سنایا جو کہ پشاور ہائیکورٹ کے سابقہ نظائر اور قانونی ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے ابتدائی دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے خاتون محتسب کے ۱۶ ستمبر کے حکم اور اس کے تحت کی جانے والی پیش رفت کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔







