لوئر دیر کی تحصیل ادینزئی کے پہاڑی علاقوں برمکے، بوچکے اور شادام میں پراسرار بیماری اور مختلف بیماریوں کے باعث 7افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں بچے چکدرہ اور سوات کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔مقامی افراد کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین اور پانچ بچے شامل ہیں مقامی آبادی نے علاقے میں بخار اور دیگر بیماریوں کے پھیلا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت سے فوری طبی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لوئر دیر ڈاکٹر محمد نیاز آفریدی نے صورتحال کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق برمکے میں جاں بحق ہونے والے دو بچے پری میچور تھے، جبکہ بوچکے کے دو نوجوان گردن توڑ بخار کے باعث پشاور میں زیر علاج ہیں۔ڈی ایچ او کے مطابق جاں بحق ہونے والی ایک خاتون پہلے سے ٹی بی کی مریضہ تھیں، تاہم دیگر اموات کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے متاثرہ علاقوں سے مختلف سیمپلز حاصل کرکے لیبارٹری تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر محمد نیاز آفریدی نے بتایا کہ علاقے میں ڈینگی اور ملیریا سے بچا کے لیے اسپرے بھی کیا گیا ہے، جبکہ صورتحال کا جائزہ لینے اور بیماریوں کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور پبلک ہیلتھ پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ڈی ایچ او کا کہنا ہے کہ فی الحال علاقے میں کوئی ہنگامی صورتحال نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اموات کی حتمی وجوہات تحقیقات اور حاصل کیے گئے سیمپلز کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ضروری اقدامات جاری ہیں۔







