پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) کے میڈیکل آئی سی یو میں مریض کے لواحقین کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی اور عملے سے بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ہسپتال کے ترجمان وسیم خٹک کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ 21 ستمبر 2026 کو دوپہر کے وقت پیش آیا جب گردن توڑ بخار میں مبتلا تشویشناک حالت کے حامل 14 سالہ مریض عباس کو نیورولوجی وارڈ سے آئی سی یو منتقل کیا گیا۔ اس دوران لواحقین نے نرسنگ ڈیسک پر موجود طبی عملے سے بدتمیزی کی اور آئی سی یو کے حفاظتی شیشوں سمیت دیگر طبی و سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔
ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کی فوری ایف آئی آر درج کروائی جس میں داؤد، سبز علی، غلام محمد، یونس خان، نجیب، عمر سنی اور رحمت اللہ کو نامزد کیا گیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام نامزد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ترجمان کے مطابق توڑ پھوڑ سے ہسپتال کی املاک کو تقریباً 10 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انتظامیہ نے واضح کیا کہ واقعے کے باوجود ہسپتال میں مریضوں کو علاج معالجے کی تمام سہولیات معمول کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔







