خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین ہر شہری کو پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور یہ ملک کسی ایک کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چند روز سے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد صوبائی حکومت کے وزراء، منتخب نمائندوں اور پارٹی کارکنوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔
انہوں نے صوبائی وزیر شکیل خان پر حملے اور وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کابینہ کے ارکان ہی محفوظ نہیں تو باقی ملک کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کو باقی ملک سے الگ کرنے یا راستے بند کرنے جیسے اقدامات تشویشناک ہیں اور ایسی پالیسیوں پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے بیوروکریسی، پولیس انتظامیہ، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ کسی بھی ادارے کے غیر قانونی یا غلط احکامات تسلیم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک داد رسی نہیں ہوتی، آئینی حدود میں رہتے ہوئے پُرامن سیاسی جدوجہد اور احتجاج جاری رکھا جائے گا۔







