اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہیں اور امریکا زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گا۔
مائیک والٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے تو بات چیت کے لیے دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
امریکی سفیر نے نیویارک میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو 47 سال سے جاری تنازع کا تسلسل قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مائیک والٹز کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ ان کے مطابق امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے ذریعے دنیا، خصوصاً آبنائے ہرمز، کو یرغمال نہ بنا سکے۔
ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران نے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرلیا، جس کے بعد یہ معاہدہ عملی طور پر ختم ہوگیا۔







