امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے براہِ راست رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات شمالی کیرولائنا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران معاہدے کا خواہاں ہے اور اب دیکھا جائے گا کہ معاملہ کس سمت آگے بڑھتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران نے ان سے براہِ راست رابطہ کیا یا کسی ثالث کے ذریعے پیغام بھیجا، تو امریکی صدر نے جواب دیا کہ رابطہ براہِ راست ہوا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے بھی امید ظاہر کی کہ یہ تنازع اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے جنگ کے آخری مرحلے کی طرف پیش رفت ہورہی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے بعد تہران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ بعد ازاں تنازع خطے کے دیگر حصوں تک پھیل گیا اور لڑائی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں۔







