ظفران شہید کیس، کرک پولیس مقابلے میں مرکزی اشتہاری نصیب اللہ ہلاک

کرک پولیس نے ظفران شہید کیس میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی اشتہاری نصیب اللہ کو پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق نصیب اللہ 9 ستمبر کو پولیس پارٹی پر فائرنگ کے واقعے میں براہ راست ملوث تھا، جس کے نتیجے میں کانسٹیبل ظفران شہید جبکہ اہلکار امتیاز زخمی ہوئے تھے۔

ضلعی پولیس کو اطلاع ملی کہ اشتہاری سرابی پہاڑی سلسلے میں چھپ کر بیٹھا ہے۔ ڈی پی او کرک عمران خان کی نگرانی میں پولیس اور دیگر ٹیموں نے علاقے میں چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران اشتہاری نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، تاہم پولیس کی بروقت جوابی کارروائی میں وہ موقع پر ہی مارا گیا۔

ڈی پی او کرک نے کہا کہ پولیس کی خصوصی ٹیموں کی انتھک محنت اور بہترین تفتیش کے نتیجے میں اشتہاری کا سراغ ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقی ملوث ملزمان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کرک پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ آئی جی پی نے واضح کیا کہ صوبے کی سرزمین پر دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed