عاصم منیر اور عباس عراقچی میں ٹیلیفونک رابطہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی نیوز ایجنسی مہر نے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بات چیت میں اہم علاقائی معاملات زیر بحث آئے۔

رائٹرز کے مطابق یہ رابطہ عباس عراقچی کے چین کے دورے کے دوران ہوا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ چین

عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں چین کا دورہ کیا، جہاں ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات ہوئی۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ جاری تنازع ختم کرنے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور اس کے تحت مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کریں۔

وانگ یی نے کہا کہ امریکا اور ایران کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے تحفظات پر بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق جنگ کا طول پکڑنا فریقین اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں۔

چین نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کی بھی حمایت کی اور علاقائی ممالک پر زور دیا کہ ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کا احترام کریں۔

چین کا آبنائے ہرمز کھولنے پر زور

چینی وزیر خارجہ نے تمام متعلقہ فریقوں سے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

وانگ یی کے مطابق بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور روانی برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین کا استحکام یقینی بنایا جاسکے۔

چین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی مزید پھیل کر یمن اور بحیرہ احمر تک پہنچ سکتی ہے۔ بیجنگ نے فریقین پر زور دیا کہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کیا جائے اور تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔

وانگ یی نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ناتے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور ایران جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور بیجنگ مذاکرات و تعاون کو مزید مضبوط کرکے ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا پس منظر

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے لیے سامنے آئی تھی، جس میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے 18 جون کو اس مفاہمت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔

بعد ازاں 22 جون کو پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندوں کے درمیان اعلیٰ سطح مذاکرات ہوئے۔ اجلاس میں تکنیکی مذاکرات کے طریقہ کار اور ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا۔

چین کی جانب سے اس مفاہمتی فریم ورک کی طرف واپسی پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے کی سلامتی، عالمی توانائی اور سمندری تجارت سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed