جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں فوجی دستے تعینات کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے کہا ہے کہ سیئول خطے کی صورتحال کے تناظر میں اپنے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔
چو ہیون نے واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں فوج بھیجنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ وہ امریکا کے دورے کے دوران وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر بات چیت متوقع ہے۔
جنوبی کوریا کی حکومت آبنائے ہرمز کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ سیئول نے اس معاملے پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے خطے میں ایک معائنہ ٹیم بھی بھیجی ہے، جبکہ ممکنہ فوجی کردار سے متعلق حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اتحادی ممالک سے تعاون کی توقع کی جارہی ہے۔ اس معاملے پر جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان بھی بات چیت جاری ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تجارتی بحری آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 16 ستمبر کو اس آبی گزرگاہ سے صرف چار تجارتی جہاز گزرے، جو گزشتہ 10 روز کی اوسط تعداد 18 سے نمایاں کم تھے۔







