مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ٹیکنالوجی کی صنعت میں اس کے ممکنہ خطرات اور نگرانی سے متعلق بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔ اے آئی کمپنیوں کے بعض سربراہان اب ترقی کی رفتار کو محدود کرنے اور ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مربوط اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم شدید مسابقت، امریکی حکومت کا محتاط رویہ اور عالمی جغرافیائی سیاسی عوامل اس راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے ہفتے کے روز اے آئی کی ترقی میں مربوط سست روی کی حمایت کی تاکہ ٹیکنالوجی کی بڑھتی صلاحیتوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جاسکے۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، ایلون مسک اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہاسابیس نے بھی ان کے مؤقف کی حمایت کی۔
اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں اوپن اے آئی اور انتھروپک نے ایسے کئی واقعات رپورٹ کیے ہیں جن میں اے آئی سسٹمز اپنے محدود ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے اور ویب سائٹس و پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔
ان سسٹمز نے باہمی رابطہ قائم کرنے، اپنے درمیان درجہ بندی بنانے، دھوکا دینے اور اپنی کارروائیوں کے شواہد مٹانے جیسی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔ اسی دوران انتھروپک سے مستعفی ہونے والے اور ماضی میں اوپن اے آئی کے ساتھ کام کرنے والے جیکب کوکسن نے دونوں کمپنیوں پر سکیورٹی کے کمزور معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔
تاہم ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے درمیان مسابقت اتنی شدید ہے کہ کسی ایک کمپنی کے لیے اکیلے ترقی کی رفتار کم کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری داؤ پر لگی ہوئی ہے، جس کے باعث کمپنیاں حریفوں سے پیچھے رہنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتیں۔
اموڈی نے حریف کمپنیوں کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ان کی تجویز میں چین کو شامل نہیں کیا گیا۔ فی الحال انتھروپک اور اوپن اے آئی کی جانب سے اختیار کیا جانے والا نمایاں مشترکہ اقدام یہ ہے کہ اے آئی سیفٹی سے متعلق کام کی اندرونی جانچ کے لیے آزاد مبصرین کو شامل کیا جائے۔
دوسری جانب بعض ٹیکنالوجی ماہرین نے اموڈی کی تجویز کے محرکات پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اے آئی کی رفتار کم کرنے کی اپیل انتھروپک کی ممکنہ عوامی حصص فروخت سے قبل کمپنی کو ذمہ دار ادارے کے طور پر پیش کرنے کی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔
کچھ ٹیکنالوجی سرمایہ کاروں نے انتھروپک پر ریگولیٹری کیپچر کی کوشش کا الزام بھی لگایا، یعنی ایسی حکومتی ضوابط کی حمایت جن سے کمپنی کو اس شعبے میں نمایاں برتری حاصل ہوسکے۔ سابق امریکی صدارتی اے آئی مشیر ڈیوڈ سیکس نے بھی اس مؤقف کو مکمل طور پر بے غرض قرار دینے پر اعتراض کیا۔
امریکا میں اے آئی کی رفتار کم کرنے کے معاملے پر بھی اختلاف موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی صنعت کے رہنماؤں کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات کو منفی قرار دیا ہے۔ بعض ریپبلکن رہنما ٹیکنالوجی پر سخت ضابطوں کے حوالے سے محتاط ہیں، کیونکہ ان کے مطابق اس سے جدت متاثر ہوسکتی ہے اور چین کو اے آئی کی عالمی دوڑ میں برتری حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اموڈی نے حکومت کی جانب سے اے آئی کی نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ان کے ساتھ آلٹمین اور ہاسابیس کا بھی مؤقف ہے کہ صرف صنعت کی جانب سے بنائے گئے قواعد اے آئی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
چین کو اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی کسی عالمی کوشش میں شامل کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اموڈی نے جمہوری ممالک تک باہمی تعاون محدود رکھنے کی تجویز دی ہے، تاہم ان کے مطابق اے آئی کے میدان میں چین کی پیش رفت اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
امریکا چینی صدر شی جن پنگ کے ستمبر کے آخر میں واشنگٹن دورے کے موقع پر اے آئی سیفٹی پر بات چیت کا منصوبہ رکھتا ہے، لیکن مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق چین امریکی ضابطہ جاتی نظام کو قبول کرنے سے محتاط ہے۔
چین کھلے اے آئی ماڈلز کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جنہیں صارفین اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل اور استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ تر بند ماڈلز کو ترجیح دیتی ہیں۔ کھلے ماڈلز کو کنٹرول کرنا نسبتاً مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ صارفین ان کے بنیادی پیرامیٹرز میں تبدیلی کرسکتے ہیں، جس کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔
اموڈی کا کہنا ہے کہ اگر غیر چینی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کریں تو اس کے لیے جدید امریکی چپس کی چین کو برآمد پر مزید سخت پابندیاں اور مغربی اے آئی ٹیکنالوجی کو چینی لیبارٹریز میں غلط طریقے سے منتقل ہونے سے روکنے کے لیے بہتر حفاظتی اقدامات ضروری ہوں گے۔







