خاتون افسر قتل کیس میں ملزم کی سزائے موت برقرار،اپیل خارج

پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث ملزم اپنے بچوں کی کفالت کو بنیاد بنا کر سزا سے رعایت حاصل نہیں کرسکتا۔عدالت نے ضلع خیبر میں محکمہ تعلیم کی خاتون افسر کے قتل کے مقدمے میں ملزم نجیب اللہ کی سزا میں کمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل بنچ نے کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ قتل ایک سنگین جرم ہے اور ایسے جرم میں ملوث شخص محض بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کو بنیاد بنا کر سزا میں کمی کا حقدار نہیں ہوسکتا۔عدالت کو بتایا گیا کہ 17جون 2023کو گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول میری خیل میں واقع رہائشی کوارٹر میں سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر خیبر رضوانہ شاہین کو تیز دھار آلے کے پے در پے وار کرکے قتل کیا گیا تھا۔واقعے کے بعد چوکیدار مراد علی کی مدعیت میں ابتدا میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، تاہم بعد ازاں مقتولہ کے ورثا نے نجیب اللہ کو قتل کے مقدمے میں نامزد کیا۔دورانِ ٹرائل مقتولہ کی بچیوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے، جبکہ عدالت کے سامنے میڈیکل رپورٹ اور فرانزک شواہد بھی پیش کیے گئے۔سیشن کورٹ نے دستیاب شواہد، میڈیکل رپورٹ اور فرانزک شہادتوں کی روشنی میں ملزم کو جرم ثابت ہونے پر*سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف نجیب اللہ نے پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ہائیکورٹ نے اپیل کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی جانب سے سزا میں کمی کی درخواست مسترد کردی اور سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔عدالت کے مطابق کیس کے شواہد اور جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزم کو سزا میں رعایت دینے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed