آئی ایم ایف مشن کی اگلی قسط کے اقتصادی جائزے پر مذاکرات کیلئے رواں ماہ پاکستان آمد کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے مشن کی ملک آمد کی تاحال کوئی تصدیق نہیں ہوئی اس لئے ہو سکتا ہیکہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ورچوئل ہوں۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے فی الحال پاکستان کے تمام اہداف پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، آئی ایم ایف کے اطمینان کی بڑی وجہ پاکستان کی طرف سے بانڈز جاری کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق بجلی کا بڑھتا ہوا گردشی قرضہ حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہو سکتا ہے، مذاکرات کے دوران گردشی قرض پرپاکستان کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے سرکاری اخراجات میں کمی کی شرط عائد کر رکھی ہے، وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جس کیلئے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جون 2026 تک حاصل کیے گئے اہداف پر مذاکرات ہوں گے جبکہ رواں مالی سال کیلئے آئی ایم ایف نئے اہداف اور شرائط بھی بتائے گا۔آئی ایم ایف مشن کی رواں ماہ پاکستان آمد کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی جبکہ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ورچوئلی ہوں۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آئی ایم ایف فی الحال پاکستان کے تمام اہداف پر اطمینان کا اظہار کر رہا ہے جس کی بڑی وجہ پاکستان کی جانب سے بانڈز کا اجرا ہے۔ذرائع کے مطابق بجلی کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کا معاملہ حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے اور مذاکرات کے دوران پاکستان کو گردشی قرضے پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔آئی ایم ایف نے سرکاری اخراجات میں کمی کی شرط عائد کر رکھی ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ جون 2026 تک حاصل کیے گئے اہداف پر مذاکرات ہوں گے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے آئی ایم ایف نئے اہداف اور شرائط سے بھی آگاہ کرے گا۔







