واشنگٹن نے یمن کے حوثی باغیوں کے حوالے سے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک امریکی ذمہ دار نے تصدیق کی ہے کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے ریاض کو درکار ڈیٹا مہیا کیا جائے گا، تاہم امریکی انتظامیہ کا اس موقع پر حوثیوں کے خلاف کسی بھی قسم کا براہ راست عسکری اقدام کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت تقریباً دو سو امریکی ملٹری اہلکار سعودی عرب میں موجود ہیں، جو دفاعی و غیر عسکری امور میں تعاون کی فراہمی میں مصروف ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر کی صورتحال اور حوثیوں سے لاحق سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف قدم اٹھانے پر زور دیا، جسے امریکی صدر نے مسترد کر دیا۔







