پشاور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم کر دیا

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کی مختلف سرکاری یونیورسٹیوں میں نگران حکومت کے دور میں تعنیات کیے گئے تدریسی اور انتظامی عملے کی برطرفی کا صوبائی حکومت کا فیصلہ معطل و کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈاکٹر کومل سمیت دیگر متأثرہ ملازمین کی آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد یہ حکم نامہ جاری کیا۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء شمائل بٹ، شمس الہادی، فضل ہادی اور جہانزیب محسود نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ صوبائی حکومت کا 2025 کا بنایا گیا قانون یونیورسٹیوں پر نافذ نہیں ہوتا۔ انہوں نے مؤقف پیش کیا کہ سرکاری جامعات خودمختار اور قانونی ادارے ہیں، جن کی تقرریاں ان کے اپنے ایکٹس کے تحت تشکیل شدہ سلیکشن بورڈز، سینڈیکیٹ اور سینیٹ کی منظوری سے عمل میں آتی ہیں۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ بھرتی کا عمل پہلے سے جاری تھا اور صرف آخری مراحل یا تقرریاں نگران دور سے مطابقت رکھتی تھیں، جس بنا پر انہیں غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ہائیکورٹ ایک سابقہ فیصلہ میں نگران دور کی غیر قانونی بھرتیاں ختم کرنے کے ایکٹ کو درست قرار دے چکی ہے کیونکہ نگران سیٹ اپ کا مقصد روزمرہ امور چلانا اور شفاف انتخابات کرانا ہوتا ہے، پالیسی نوعیت کی تقرریاں کرنا نہیں۔ تاہم ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں یہ واضح کیا کہ 2025 کا برطرفی قانون صوبائی محکموں کے لیے ہے جبکہ خودمختار جامعات کے اپنے قوانین موجود ہیں۔ عدالت نے قانونی طریقہ کار کے تحت ہوئی تقرریوں کو منسوخ کرنا غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تمام برطرف ملازمین کو سابقہ تاریخوں سے تمام تنخواہوں اور مراعات کے ساتھ بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed