سام آلٹمین نے اے آئی پیشرفت سست کرنے کی تجویز دیدی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں جاری تیز رفتار پیشرفت اور اس سے جڑے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے ملازمین کے ساتھ ایک اجلاس میں اس ٹیکنالوجی کی تیاری کی رفتار کو دھیما کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتھروپک کے سابق محقق جیکب کوسن نے استعفیٰ دیتے ہوئے اوپن اے آئی اور انتھروپک دونوں پر خود کار ترقی یافتہ سسٹمز کے ذریعے خطرات مول لینے کا الزام عائد کیا۔

حالیہ سیکیورٹی رپورٹس نے ان تحفظات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ انتھروپک کے مطابق اس کے کلود اوپس 4.6 ماڈل کے ابتدائی ایڈیشن نے بغیر اجازت ایک تھرڈ پارٹی سسٹم تک رسائی حاصل کی، جو امسال پیش آنے والا چوتھا ایسا واقعہ ہے۔ دوسری جانب اوپن اے آئی کے پیش کردہ نئے جی پی ٹی 6 آسٹرا کو سائبر سیکیورٹی میں تو مؤثر قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کی نگرانی گزشتہ ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے۔

اس صورتحال نے ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک طبقے کا ماننا ہے کہ امریکا اے آئی میں واضح برتری رکھتا ہے، لہٰذا رفتار سست کرنے سے اس کی عالمی بالادستی پر فرق نہیں پڑے گا، جبکہ دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قدم سے چین کو اس دوڑ میں آگے نکلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ دریں اثنا، امریکا اور چین کے صدور کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی آئندہ ملاقات میں اے آئی کی عالمی گورننس اور سائبر خطرات سے نمٹنے پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed