روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں، جہاں 12 اور 13 ستمبر کو 11 رکنی برکس سربراہی اجلاس منعقد ہوگا۔ اجلاس میں ایران اور یوکرین کی جنگوں سمیت عالمی سیاسی اور معاشی صورتحال پر اہم بات چیت متوقع ہے۔
پیوٹن کے علاوہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی روسی اور ایرانی صدور سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے الگ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ بھی نئی دہلی پہنچ رہے ہیں اور بھارتی وزیراعظم سے دوطرفہ ملاقات کریں گے۔
برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔ ایران جنگ کے باعث گروپ کے اندر مختلف ممالک کے مؤقف میں فرق بھی نمایاں ہوا ہے، خصوصاً ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات کے تناظر میں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹ برکس اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔ اس بحران کے اثرات عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر بھی پڑے ہیں، جبکہ بھارت اور چین خلیجی تیل کی ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز پر خاصا انحصار کرتے ہیں۔
یوکرین جنگ بھی اجلاس کے ایجنڈے میں اہم معاملہ ہوگی۔ روس کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے باوجود بھارت یوکرین جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کیلئے کوششیں بھی جاری ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ کی بھارت آمد کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ 2020 کے سرحدی تنازع کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران کچھ بہتری آئی ہے، تاہم سرحدی اختلافات، تجارتی عدم توازن اور باہمی بداعتمادی اب بھی برقرار ہے۔
برکس سربراہی اجلاس میں جنگوں کے علاوہ عالمی معیشت، توانائی، تجارت اور رکن ممالک کے درمیان تعاون سمیت دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ایران جنگ نے تاہم گروپ کیلئے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت کو ایک اہم امتحان سے دوچار کردیا ہے۔







