خیبر پختونخوا کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں گرلز سکولوں کی عدم دستیابی، غیر فعال عمارتوں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف عائشہ ملک ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق جنوبی و شمالی وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف اضلاع میں طویل فاصلوں اور خواتین اساتذہ کی کمی کے باعث بچیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ رٹ پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ صوبے بھر میں سروے کرا کر نئے سکول قائم کیے جائیں، غیر فعال تعلیمی ادارے بحال ہوں اور جہاں سکول ممکن نہ ہوں وہاں محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے۔







