گوانگژو (امجد عزیز ملک)
ایشیا پیسیفک میڈیا فورم (APMF) کا گوانگژو ذیلی فورم جمعرات 3 ستمبر کو گوانگژو میڈیا سینٹر میں منعقد ہوا، جس میں ایشیا پیسیفک خطے اور ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) معیشتوں سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد میڈیا نمائندوں، سرکاری حکام، ماہرین، سکالرز، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر شعبوں سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ فورم کا مرکزی موضوع ”ایشیاء پیسیفک میں کھلی، اختراعی اور باہمی تعاون پر مبنی ترقی کے نئے مواقع”تھا، جس کے تحت علاقائی تعاون، باہمی رابطوں، صنعتی شراکت داری، جدت، مصنوعی ذہانت اور مشترکہ ترقی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔فورم میں چین کی جدید ترقی، چینی طرز کی جدیدکاری، گوانگ ڈونگ، ہانگ کانگ اور مکائو گریٹر بے ایریا کی ترقی اور گوانگژو کے اعلی سطحی کھلے پن کے تجربات کو ایشیاء پیسیفک خطے میں تعاون کے وسیع تر تناظر میں زیر بحث لایا گیا۔

مقررین اور شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار ترقی کیلئے اقتصادی روابط کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، جدت، صنعتی تعاون اور انسانی روابط کو بھی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔فورم کے دوران ”روابط سے مربوط صنعتی شراکت داری”کے موضوع پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مقررین نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ایشیا ء پیسیفک میں تعاون محض تجارت اور مصنوعات کی ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ صنعتی زنجیروں، تحقیق و ترقی، ٹیکنالوجی، خدمات اور مقامی شراکت داری کو بھی اس کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ژونگ شان یونیورسٹی کے گوانگ ڈونگ، ہانگ کانگ اور مکائو ڈیویلپمنٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی نائب سربراہ لی شیاویِنگ نے کہا کہ تجارتی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گریٹر بے ایریا اور APEC معیشتوں کے درمیان جدت، صنعتی منتقلی اور اعلی ٹیکنالوجی کے معیارات کے شعبوں میں تعاون کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق گریٹر بے ایریا مستقبل میں جدت کا رہنما، صنعتی سرگرمیوں کا اہم مرکز اور قواعد و معیارات کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ اور گریٹر بے ایریا میں تحقیق و ترقی، جبکہ وسیع تر خطے میں صنعتی پیداوار اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے درمیان تعاون کا نیا ماڈل تشکیل پا سکتا ہے۔

ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، ڈرونز اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ معیارات اور تعاون علاقائی سبز اور ڈیجیٹل تبدیلی کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔فورم میں میڈیا کے کردار کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ میڈیا مختلف معاشروں کے درمیان رابطے، باہمی افہام و تفہیم اور ترقیاتی تجربات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایشیا پیسیفک خطے میں بڑھتے ہوئے اقتصادی اور ثقافتی روابط کے تناظر میں میڈیا اداروں کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون، اطلاعات کے تبادلے اور رابطوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ فودان یونیورسٹی کے کمیونیکیشن اینڈ نیشنل گورننس ریسرچ سینٹر کے سربراہ پروفیسر ژانگ ژی آن نے کہا کہ شہر اب ایشیا پیسیفک میں تہذیبی رابطے اور بین الاقوامی مکالمے کیلئے اہم ترین پلیٹ فارم بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر رابطوں میں قومی بیانیے کے ساتھ ساتھ شہری سطح کی کہانیاں بھی تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہیں، کیونکہ یہ مختلف معاشروں کے عوام کو روزمرہ زندگی، ثقافت اور ترقی کے تجربات کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ گوانگژو ذیلی فورم کے دوسرے اہم موضوعات میں ”مصنوعی ذہانت (AI) اور صحافت و ابلاغ پر اس کے اثرات”بھی شامل تھے۔

شرکا ء نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ مصنوعی ذہانت میڈیا کے شعبے میں خبر سازی، مواد کی تیاری، معلومات کی ترسیل اور عوامی ابلاغ کے طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ شرکا ء کے مطابق اے آئی نئی جدت اور ترقی کے مواقع پیدا کر رہی ہے تاہم اس کے ساتھ صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لیے پیشہ ورانہ، اخلاقی اور تکنیکی نوعیت کی نئی ذمہ داریاں اور چیلنجز بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ گوانگژو میں ہونیوالی گول میز نشست میں چینی اور غیر ملکی ماہرین نے دو بڑے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جن میں ”روابط سے مربوط شراکت داری تک”اور ”جدت سے عملی اطلاق تک، اے آئی کا نیا انجن”شامل تھے۔ مالدیپ کے چین میں سفیرفاضل نجیب نے اے آئی کے عملی استعمال کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک چین اور گوانگژو کے تجربات سے قابلِ عمل طریقے سیکھنے اور انہیں اپنے معاشروں میں عوامی فائدے کیلئے استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ویتنام کی وزارت خارجہ کے محکمہ اطلاعات کے معاون ڈائریکٹر فام ہوانگ سون نے علاقائی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کھلے پن، رابطوں، جدت اور شمولیت کے ذریعے زیادہ مضبوط اور لچک دار ایشیا پیسیفک خطے کی تعمیر پر زور دیا۔ دوسری جانب صنعتی شعبے سے وابستہ مقررین نے کہا کہ علاقائی تعاون کو محض مصنوعات کی برآمد تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی سطح پر صنعت، خدمات، سپلائی چین اور ٹیکنالوجی کے اشتراک تک وسعت دینا ضروری ہے۔ فورم کا انعقاد چینی کمیونسٹ پارٹی کے گوانگ ڈونگ صوبائی محکمہ تشہیر، گوانگژو میونسپل حکومت اور شنہوا نیوز ایجنسی کے شعبہ خارجہ امورکی میزبانی میں ہوا، جبکہ گوانگژو میونسپل پارٹی کمیٹی کے محکمہ تشہیر اور شنہوا نیوز ایجنسی کے گوانگژو بیورو نے انتظامی کردار ادا کیا۔ گوانگژو ڈیلی گروپ نے بھی فورم کی معاونت کی۔ گوانگژو ذیلی فورم ایشیا پیسیفک میڈیا فورم 2026 کی وسیع سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ فورم کے سلسلے میں شریک بین الاقوامی میڈیا نمائندے گوانگژو کے علاوہ ”فوشان، ڈونگ گوان، شینزن، ژوہائی اور ژونگ شان”کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں انہیں چین کی جدید صنعتی ترقی، جدید مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، جدت اور اعلی سطحی کھلے پن کے عملی تجربات کا مشاہدہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔شرکاء نے گوانگژو کی شہری ترقی اور جدید انفراسٹرکچر کا بھی مشاہدہ کیا۔ میڈیا نمائندوں نے گوانگژو میٹرو کی لائن 18 کا دورہ کیا، جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔اس دورے کو گوانگژو کے شہری رابطوں اور جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے تجربے کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایشیا پیسیفک میڈیا فورم کا مرکزی اجلاس 5 ستمبر 2026 ء کو شینزن میں منعقد ہوگا، جس کا موضوع ”ایشیا پیسیفک کمیونٹی کی مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرنا: میڈیا کا اتفاقِ رائے اور عملی اقدامات”ہے۔ فورم میں ایشیا پیسیفک خطے کے مختلف ممالک، چین کے ہانگ کانگ اور مکائو، میڈیا اداروں، تھنک ٹینکس، سرکاری اداروں اور سفارتی حلقوں سے وابستہ نمائندوں کی شرکت متوقع ہے اور اجلاس کے اختتام پر متعدد نتائج اور عملی اقدامات سامنے آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔یہ میڈیا فورم ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین 2026 APEC چائنا ایئرکی میزبانی کر رہا ہے۔ چین کے مطابق سال بھر میں مختلف چینی شہروں میں تقریباً 300 APEC سے متعلق اجلاس اور سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں، جبکہ 33ویں APEC اکنامک لیڈرز میٹنگ 18 اور 19 نومبر 2026 کو شینزن میںہوگی۔ 2026 کیلئے APEC کی ترجیحات میں ”کھلا پن، جدت اور تعاون”کو نمایاں مقام دیا گیا ہے۔ چین کی میزبانی میں ہونے والے APEC سال کا وسیع تر مقصد ایشیا پیسیفک میں اقتصادی تعاون، رابطوں، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس تناظر میں گوانگژو ذیلی فورم میں میڈیا، صنعت، ٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون کو ایک دوسرے سے جوڑنے پر ہونے والی گفتگو کو خطے میں مشترکہ ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایشیا پیسیفک میڈیا فورم کے صحافیوں کا ڈیروچی کے جدید شو روم اور فیکٹری کا دورہ
ایشیاء پیسیفک میڈیا فورم میں شرکت کرنیوالے دنیا کے مختلف ممالک کے صحافیوں نے گوانگ ڈونگ کے شہر ڈونگ گوان میں ڈیروچی (DeRUCCI) کے شو روم اور فیکٹری کا دورہ کیا، جہاں انہیں کمپنی کی جدید پیداواری صلاحیت، جدید مصنوعات، ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹ میں کمپنی کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔صحافیوں نے ڈیروچی کی جدید فیکٹری، جدید ٹیکنالوجی، منظم پیداواری نظام اور اعلی معیار سے بے حد متاثر ہوئے۔ دورے کے دوران انہیں یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ڈیزائن اور ماہر کاریگروں کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے معیاری مصنوعات کس طرح تیار کی جاتی ہیں۔کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ڈیروچی کا ہیڈکوارٹر اور ایک بڑا پیداواری مرکز ڈونگ گوان میں ہے، جبکہ اس کے پیداواری مراکز جیاشنگ، ویتنام اور انڈونیشیا میں بھی موجود ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کی مصنوعات 50 ممالک اور خطوں تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ اس کا وسیع ریٹیل نیٹ ورک 11 ممالک میں تقریبا 5,200 شو رومز پر مشتمل ہے۔صحافیوں کو ڈیروچی کی برآمدی سرگرمیوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ کمپنی کی مصنوعات امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بھارت اور جرمنی سمیت متعدد عالمی مارکیٹوں میں پہنچ رہی ہیں۔ڈونگ گوان میں کمپنی کا پیداواری مرکز تقریبا 210,000 مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جہاں آرڈر پراسیسنگ، خام مال کی خریداری، پیداوار، معیار کی جانچ، پیکیجنگ اور لاجسٹکس سمیت مختلف مراحل میں جدید اور ڈیجیٹل نظام استعمال کیا جاتا ہے۔دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اس دورے کو چین کی تیز رفتار صنعتی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کا شاندار مظاہرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسے دورے عالمی برادری کو چینی کمپنیوں کی جدید ٹیکنالوجی، اعلی معیار اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے کردار کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔صحافیوں نے ڈیروچی کی انتظامیہ کی جانب سے پرتپاک استقبال اور شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فیکٹری اور شو روم کا دورہ ایشیا پیسیفک میڈیا فورم کے دوران ان کے لیے ایک یادگار اور معلوماتی تجربہ رہا۔







