ایکسل لوڈ رجیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، عبدالعلیم خان

 وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس کے علاوہ ڈی جی این ایل سی اور ڈی جی ایف ڈبلیو او کے سربراہان نے بھی شرکت کی اور متعلقہ امور پر بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ زائد وزن کے باعث سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایکسل لوڈ کی 30 ہزار خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ سنگجانی میں بین الاقوامی معیار کا جدید ماڈل وے اسٹیشن جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اجلاس میں واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایکسل لوڈ رجیم سے متعلق قانونی اور آپریشنل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے این ایچ اے کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترمیم کی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے ڈھانچے کی تیاری پر واضح رہنمائی دی جائے اور انہیں آگاہ کیا جائے کہ گاڑیوں پر غیر ضروری بھاری آرائشی سامان نہ لگائیں جس سے ان کا وزن بڑھتا ہو۔ وفاقی وزیر نے سختی سے اعلان کیا کہ اب صرف گاڑیوں کے مالکان ہی نہیں بلکہ ٹرکوں پر حد سے زیادہ وزن لوڈ کرنے والی فیکٹریوں کی بھی نشاندہی کرکے ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔عبدالعلیم خان نے تمام سو فیصد مال بردار گاڑیوں کو وے اسٹیشنز سے گزارنا لازمی قرار دیتے ہوئے وے اسٹیشنز کے نظام کو مکمل طور پر آٹومیٹ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم آٹو پر جانے سے لمبی قطاروں اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے، نیز انہوں نے موٹرویز کی طرز پر جی ٹی روڈز پر بھی وے اسٹیشنز قائم کرنے کے احکامات جاری کیے۔ وفاقی وزیر نے موٹرویز پر جدید کیمروں کی نصب کاری اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے قانون توڑنے والی گاڑیوں کی فوری ٹریکنگ کا نظام وضع کرنے پر زور دیا۔مزید برآں، وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے کراچی پورٹ پر این ایچ اے، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ کسی بھی منصوبے کی بندی میں صرف موجودہ حالات نہیں بلکہ آئندہ 20 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ موٹرویز پر ایکسل لوڈ رجیم کے عملی نفاذ اور امپلیمنٹیشن کا خود جائزہ لینے کے لیے 10 مختلف مقامات کے ذاتی دورے بھی کریں گے تاکہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed