خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے خیبرپختونخوا بھر کے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات لازمی قرار دیتے ہوئے اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں نہ صرف صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں بلکہ نجی ہسپتالوں میں بھی اس سلسلے میں اقدامات یقینی بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے تمام ہیلتھ کیئر اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہسپتالوں میں فائر ایمرجنسی کی بروقت نشاندہی اور آگ کی روک تھام کے لیے مثر نظام نصب کیا جائے۔کمیشن نے ہسپتالوں میں فائر ایکسٹنگوشرز، فائر پروف کمبل اور ریت سے بھری بالٹیاں لازمی قرار دے دی ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر آگ پر قابو پانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔تمام سرکاری و نجی ہیلتھ کیئر اداروں کو محفوظ انخلا کا تحریری منصوبہ تیار کرنے اور ہنگامی راستوں کی واضح نشاندہی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ہسپتال انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی راستے ہر وقت قابل استعمال اور رکاوٹوں سے پاک ہوں۔خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے ہسپتالوں میں فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے باقاعدگی سے موک ڈرلز کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔کمیشن کے مطابق ہسپتال کے عملے کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے مناسب تربیت فراہم کی جائے اور ہر ملازم کی ذمہ داریاں واضح طور پر تفویض کی جائیں۔ہیلتھ کیئر کمیشن نے تمام ہیلتھ کیئر اداروں کو فائر سیفٹی کے ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔پمز ہسپتال کے واقعے نے ملک بھر کا ہیلتھ سسٹم جھنجوڑ کر رکھ دیا، اس سلسلے میں جہاں فائر سیفٹی اقدامات کئے جا رہے ہیں، وہیں خیبرپختونخوا میں تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی جانچ کیلئے ضلعی کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔اس جوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی و ٹراما پروٹوکول کمیٹی 8 افراد پر مشتمل ہوگی، جس کے چیئرمین ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز مقرر کئے گئے ہیں، جبکہ فائر ایمرجنسی سیفٹی کمیٹی 14 افراد پر مشتمل ہوگی، جن کے کنوینر متعلقہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف ہوں گے۔ذرائع کے مطابق فائر سیفٹی کے حوالے سے قائم ضلعی کمیٹیاں ہسپتالوں کا معائنہ کرکے سات روز میں رپورٹ کریں گی، ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی اخراج، برقی و آکسیجن سیفٹی کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی و ٹراما مراکز کیلئے ٹرائیج، علاج اور ایمرجنسی پروٹوکولز کی تیاری کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ ایمرجنسی پروٹوکولز اور ٹرائیج سے متعلق سفارشات 7 روز میں محکمہ صحت کو جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔







