پشاور ہائیکورٹ نے چارسدہ کے علاقے تنگی سے تعلق رکھنے والے نویں جماعت کے 15 سالہ طالب علم صنوبر شاہ کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواست پر تھانہ ایکسائز چارسدہ کے سب انسپکٹر اور متعلقہ سپاہی سے تحریری جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو سات روز کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔درخواست گزار کے وکیل روح اللہ جان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سنان شاہ نویں جماعت کا طالب علم اور عمر 15 سال ہے، جو 8 اگست کو اپنے والد کے ہمراہ اسلام آباد جا رہا تھا کہ چارسدہ انٹرچینج پر اسے گرفتار کرلیا گیا۔ وکیل کے مطابق گرفتاری کے بعد طالب علم کو تھانہ چارسدہ سٹی کے حوالے کیا گیا۔وکیل نے مقف اختیار کیا کہ طالب علم کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف 21 اگست کو پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، تاہم 24 اگست کو پولیس نے اسے منشیات کے مقدمے میں نامزد کردیا۔ عدالت نے فریقین سے واقعے سے متعلق تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔







