گریٹ جنرل محمد ایوب خان

ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز)

جنرل محمد ایوب خان پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل تھے۔ وہ پاکستانی فوج کے سب سے کم عمر سب سے زیادہ رینکس حاصل کرنے والے فوجی ہیں۔ وہ تاریخ میں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔انہوں نے کروڑوں روپے خرچ کر کے ساری بادشاہی مسجد مرمت کرائی اور میناروں پر سنگ مر مر کے سفید گنبد بنوائے مسجد کا مین دروازہ اور شاندار سیڑھیاں بنوا کر مسجد کو دیدہ زیب بنا دیا۔چوبرجی لاہور کے تین مینار تھے اور کھنڈر پڑی تھی۔ چوتھا مینار اور ساری عمارت کو مرمت کرا کر اس کی عظمت بحال کی۔لاہور کا شالامار باغ ویران پڑا تھا۔عمارت برباد تھی اور راہ داریاں ٹوٹی پھوٹی تھیں اور فوارے کام نہیں کرتے تھے بلکہ سارا باغ ہی ویران پڑا تھاانہوںنے شالا مار باغ کو از سر نو مرمت کروایا اس وقت سے لوگ اسے بطور سیر گاہ استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے قرار داد پاکستان کی جگہ عالیشان مینار پاکستان تعمیر کروایا تھا۔یہ وہ شخص تھا جس نے پاکستان کا دارلحکومت کراچی سے لا کر پہاڑوں کے بیچ اسلام آباد جیسی محفوظ جگہ پر بنوایا اورخوبصورت سرکاری عمارتیں تعمیر کرائیں۔ جس نے پاکستان کو خوراک میں خود کفیل بنانے کے لیے سارے پاکستان میں اشتمال اراضیات کرایا اور لوگوں کی بکھری زمینیں یکجا کرا دیں۔انہوں نے فیصل آباد میں زرعی تجربات کے لیے 100 ایکڑ رقبے پر زرعی یونیورسٹی قائم کی۔ جس نے آب پاشی اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پہلے ورسک ڈیم بنوایا، پھر منگلا اور تربیلا ڈیم بنوائے۔جنرل ایوب خان نے مستقبل میں پنجاب یونیورسٹی کی ضرورتوں کو محسوس کر کے اسے نیو کیمپس کے لیے نہر کے دونوں طرف 27 مربع زمین الاٹ کر کے وہاں پر عمارات بنوا دیں۔جس نے دریائے راوی، چناب، جہلم اور اٹک پر نئے پل تعمیر کرائے ا ور سکھر میں دریائے سندھ پر ریلوے پل کے ساتھ اتنے چوڑے دریا پر بغیر ستونوں کے شاندار معلق پل بنوایا۔ایوب خان نے کراچی سے حیدر آباد تک 100 میل لمبی شارٹ کٹ سپر ہائی وے تعمیر کرائی۔جس نے ٹیکسلا ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور پہاڑوں کے اندر ٹینک فیکٹری لگوائی جو خالد ٹینک تیار کرتی ہے۔جنرل ایوب نے رسالپور میں ریلوے انجن بنانے کی فیکٹری لگوائی۔ جس نے اسلام آباد میں ریلوے کی بوگیاں تیار کرنے کی فیکٹری لگوائی۔ جس کی پالیسییوں سے لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان میں ٹیکسٹایل انڈسٹری لگی۔انہوں نے فیصل آباد میں کئی ایکڑ رقبے پر ٹیکسٹایل یونیورسٹی بنوا دی۔جس نے مستقبل میں تیل کی مہنگائی اور نایابی کو بھانپ کر لاہور سے خانیوال تک تجرباتی طور پر الیکٹرک ٹرین چلائی تھی جس کی ہمارے لوگ تاریں تو کیا پول بھی بیچ کر کھا گئے ہیں۔1952 میں گوادر حکومت مسقط کا حصہ تھا کرنسی انڈیا کی اور پوسٹ اینڈ ٹیلیگرآف پاکستان کا تھا ۔جنرل ایوب خان نے گوادر کا علاقہ مسقط سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا تھا۔پاکستان کی گوادر بندر گاہ اب پاک چین کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک کیلئے راہداری کا باعث بنی ہے۔انہوں نے مشرقی پاکستان میں بھی چائے تیار کرنے کے کارخانے اور بانس سے کاغذ تیار کرنے کی بہت بڑی کرنا فلی پیپر مل لگوائی تھی اس کے علاوہ پٹسن سے کپڑا اور بوریاں تیار کرنے کی بڑی بڑی جوٹ ملیں لگوایں اور لاکھوں مچھیروں کی کشتیوں میں انجن فٹ کروا دیئے تاکہ انہیں سمندر میں دور تک جا کر مچھلیاں پکڑنے میں آسانی ہو۔یہ وہ شخص تھا جس کے استقبال کے لئے امریکی صدر جان ایف کینیڈی اپنی اہلیہ کے ہمراہ خود ائیر پورٹ پر موجود تھا ۔یہ وہ شخص تھا جس نے صرف دس سال میں یہ سب کچھ کر دکھایالیکن ہمارے لالچی لوگوں نے ان جھوٹے سیاستدانوں کے جھوٹے الزامات پر اسے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا ۔اس کے علاوہ اس سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہونگی کیونکہ وہ بہرحال ایک انسان تھا،لیکن جس شخص نے پاکستان کیلئے یہ سارا کچھ کیا آج یہ احسان فراموش سیاستدان اس کا نام لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔اس شخص کا نام تھا گریٹ جنرل محمد ایوب خان۔اللہ درجات بلند فرمائے۔صدر محمدایوب خان 14مئی 1907کو ہری پور ہزارہ کے قریب ایک گاں ریحانہ میں ایک ہندکو پشتو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والد میر داد خان کی دوسری بیوی کے پہلے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ کا نام سرائے صالح کے ایک اسکول میں داخل کروایا گیا اور اس کے علاوہ ایک قریبی گاں کاہل پائیں میں بھی حاصل کی جو ان کے گھر سے 5میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ نے 1922میںعلی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن تعلیم مکمل نہ کی کیونکہ اس دوران میں آپ نے رائل اکیڈمی آف سینڈہسٹز کو قبول کر لیا تھا۔آپ نے اس تربیت گاہ میں بہت اچھا وقت گزارا اور آپ کو 14پنجاب رجمنٹ شیر دل میں تعینات کیا گیا جو اب 5پنجاب رجمنٹ ہے۔ جنگ عظیم دوم میں آپ نے بطور کپتان حصہ لیا اور پھر بعد میں برما کے محاذ پر بطور میجر تعینات رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے پاکستان آرمی جوائن کرلی، اس وقت آپ آرمی میں دسویں نمبر پر تھے۔ جلد ہی آپ کو برگیڈئر بنا دیا گیا اور پھر 1948 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا سربراہ بنادیا گیا۔ 1949میں مشرقی پاکستان سے واپسی پر آپ کو ڈپٹی کمانڈر ان چیف بنا دیا گیا۔ 17جنوری 1951کو آپ پاکستانی فوج کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف بنے۔ 1954میں جب محمد علی بوگرانے گورنر جنرل کی دعوت پر نئی وزارت تشکیل دی تو اس میں میجر اسکندر مرزا اور پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خان کو بھی شامل کیا گیا۔آپ 24 اکتوبر1954سے 11اگست 1955تک محمد علی بوگرہ کے دور میں حاضر سروس فوجی ہوتے ہوئے بطور وزیر دفاع خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ دنیا کی واحد مثال ہے کہ سول حکومت کا وزیر دفاع حاضر سروس فوجی ہو۔جب اسکند مرزا نے 7اکتوبر 1958میں مارشل لا لگایا تو آپ کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔ پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی فوجی کو براہ راست سیاست میں لایا گیا۔ 24اکتوبر 1958کو جنرل ایوب خان وزیر اعظم بنا دیے گئے لیکن صدر اسکندر مرزاسے اختلافات کی بنا پر مرزا صاحب سے ایوب خان کے اختلافات بڑھتے گئے اور فقط 3 دن بعد 27اکتوبر 1958 کوایوب خان نے پاکستان کی صدارت سنبھال لی اوراسکندر مرزا کو معزول کر دیا۔جنرل ایوب خان نے خود کو 27اکتوبر1958کو صدرِ پاکستان نامزد کردیا مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا بھی قلمدان سنبھالا۔ جنرل ایوب خان کے الفاظ تھے کہ،میجر جنرل اسکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدرِ پاکستان تھے، انہوں نے قلمدان سے دست بردار ہوکر تمام اختیارات مجھے سونپ دیے ہیں۔ اِس لیے میں نے اِس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں۔ 27اکتوبر 1959 کو فوج نے صدر جنرل ایوب خان کو ملک کا اعلی ترین فوجی عہدہ فیلڈ مارشل پیش کیا۔ اسی روز ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کردیا گیا۔ 17فروری 1960کو فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ایوب خان نے 1961میں آئین بنوایا جوصدارتی طرز کا تھا۔02جنوری 1965کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ایوب خان کے مدِ مقابل سب سے اہم حریف مادرِ ملت فاطمہ جناح تھیں جو قائد اعظم کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود ہار گئیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں انتخابات کے دوران دھاندلی کا آغاز تھا۔ 06ستمبر 1965 کو جب بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا تو پوری قوم ایوب خان کی قیادت میں سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ حملہ آور پڑوسی ملک کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی ہوگئی۔ 10جنوری 1966 کو تاشقند کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے دونوں ملکوں کی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلی گئیں۔1965کی جنگ کی وجہ سے ایوب خان کے لیے حالات ناسازگار ہو چکے تھے۔ تاشقند معاہدے سے واپسی پر اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان نے ملک کی عزت اور قربانی بیچ ڈالی۔ اس بیان کے بعد بھٹو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔1967میں بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی اور ایوب خان کی مذہبی، معاشی اور عوامی پالیسیز پر شدید تنقید شروع کر دی۔ بھٹو کی تحریک کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی ایوب خان کے خلاف شیخ مجیب الرحمن کی تحریک سرگرم ہوچکی تھی۔ ایوب خان نے بھٹو اور شیخ مجیب کو پابند سلاسل کر دیا۔ اس سے ایوب خان کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا۔ 1968میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہدِ حکومت کو دس سال مکمل ہوئے اور ملک میں عشرہ اصلاحات منایا گیا تو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے خلاف تحریکِ جمہوریت کا آغاز کردیا۔ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کا آغاز ہوا۔1968میں ایوب خان پر قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا۔ اس دوران ایوب خان کو دل کا دورہ لاحق ہوا اور اسی سال ان پر فالج کا حملہ بھی ہوا اور وہ صاحب فراش ہو گئے۔ انہیں ویل چیئر پر لایا جاتا تھا۔ملک بھر میں ایوب خان کے خلاف احتجاج نے خانہ جنگی سی صورت حال پیدا کر دی۔ پولیس کے لیے بلوائیوں کو روکنا مشکل ہو گیا اور بالآخر ایوب خان نے 25مارچ 1969کو اپنے عہدے سے استعفا دے دیا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل یحی خان کو ملک کا صدر بنا دیا اور خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ گمنامی میںچلے گئے۔حالانکہ ایوب خان کے دور میں چینی صرف 4آنے مہنگی ہوئی تھی اور ایوب خان کے خلاف” ایوب کتا ہائے ہائے ”کے نعرے لگ گئے تھے۔ پھر بعد میں عوام نے ایوب خان کو دوبارہ سیاست میں لانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں کتا ہوں اور اس طرح انہوں نے سیاست میں آنے سے انکار کر دیا۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 20اپریل 1974کو اسلام آباد میں وفات پاگئے انہیں ان کے آبائی گاؤں ریحانہ میں ہی ان کی والدہ کی قبر کے پاس دفن کیا گیا۔ایوب خان مرحوم نے اپنی سوانح عمری فرینڈز ناٹ ماسٹرزکے نام سے تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ذاتی ڈائریوں کے مندرجات بھی ڈائریزآف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed