مولانا کا سیاسی کارڈ اور حکومت کی بے چینی

​تحریر: ایم بشیر عادل

​مولانا فضل الرحمان نے اپنی سیاسی بصیرت کی قبا پھیلا کر جس گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا اعلان کیا ہے، اس نے حکمرانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت ایک طرف تحریک انصاف کی مقبولیت سے خائف ہے، تو دوسری جانب مولانا موصوف کے بیانیے نے بھی ان کے لیے سر درد پیدا کر رکھا ہے۔
​اپوزیشن جماعتوں نے مولانا کی امامت میں سیاسی سفر کا فیصلہ بڑے سوچ و بچار کے بعد کیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں پی ٹی آئی نے اپنے بانی کی رہائی کے لیے کئی نسخے آزمائے، یہاں تک کہ اپوزیشن لیڈر کا اہم منصب بھی خود لینے کے بجائے دوسروں کی جھولی میں ڈال دیا، لیکن دال پھر بھی نہ گل سکی۔ نہ جیل کے دروازے کھلے اور نہ ہی پی ٹی آئی کی آزمائشیں ختم ہونے کا نام لے رہی ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن نے اپنی تحریک میں روح پھونکنے کے لیے تمام امیدیں مولانا کی ذات پر مرکوز کر لی ہیں۔
​مولانا کے اپوزیشن اتحاد کا باقاعدہ حصہ بننے کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں تھرتھلی مچ گئی ہے۔ ایک طرف حکومت نے مولانا سے فیصلے پر نظرثانی کے لیے بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، تو دوسری طرف مولانا صاحب کے حوالے سے عمران خان کے ماضی کے بیانات کو سوشل میڈیا کی زینت بنایا جا رہا ہے۔​لیکن مولانا فضل الرحمان ایک مدبر سیاست دان ہیں، وہ پیچھے دیکھنے کے عادی نہیں بلکہ ماضی میں جھانک کر مستقبل کے فیصلے کرنے کا گر خوب جانتے ہیں۔ ویسے بھی "سیاست کا سینہ دل سے خالی ہوتا ہے”، پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے ماضی کے بیانات کو سامنے رکھا جائے تو دونوں جماعتوں کا ایک پیج پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ مولانا ایک زیرک سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے دل گردے کے مالک بھی ہیں، انہیں سیاسی راستہ دینے اور لینے کے طور طریقے خوب آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے سخت ترین مخالفین بھی آج ان کی چوکھٹ پر حاضری دینے پر مجبور ہیں۔​مولانا کی مخصوص ہنسی ہمیشہ ہر چیز پر بھاری ہوتی ہے۔ وہ سیاسی مٹھی یوں بند کرنے کا معجزہ رکھتے ہیں کہ بڑے بڑے ماہرِ سیاسی علمیات بھی گوڈے ٹیک دیتے ہیں۔ موجودہ سیاسی تناظر کا جائزہ لیا جائے تو جے یو آئی کے سربراہ اپنی سیاسی حکمت عملی سے پی ٹی آئی اور حکومت دونوں کو ‘ٹف ٹائم’ دے رہے ہیں، اور ہمیشہ ترپ کا پتہ اپنے ہی پاس رکھتے ہیں۔ مولانا کے حالیہ اقدامات سے مستقبل کے سیاسی نقوش اور نئے اتحادوں کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس سیاسی تحریک کو کیسے انجام تک پہنچاتے ہیں، اور تحریک انصاف نے جس مقصد کے لیے مولانا صاحب کا دامن پکڑا ہے، ان کی امیدیں کہاں تک بر آتی ہیں۔​گرینڈ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھائے گی یا جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے کارکن کندھے سے کندھا ملا کر میدان میں بھی اتارے جائیں گے؟ مطلب احتجاجی تحریک کے خد و خال اور حکمت عملی کیا ہوگی؟ اپوزیشن کی تحریک سے حکومت پر کیا اثر پڑے گا اور کیا اپوزیشن کا یہ اتحاد حکومت کو قبل از وقت انتخابات پر مجبور کر سکے گا؟ یہ اور ان جیسے کئی دوسرے سوالات کی گتھی وقت کے ساتھ ساتھ سلجھ جائے گی، لیکن فی الوقت حکومت مولانا کی سیاسی چالوں سے شدید پریشان ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed