محکمہ بلدیات ٹی ایم ایز کو مستقل اکائونٹنگ سسٹم فراہم کرنے میں ناکام

حکومت بلدیاتی اداروں کے فرسودہ اکاؤنٹ سسٹم پرسنل لیجر اکاؤنٹ کو تبدیل کرنے اور مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم کی فراہمی یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکامی سے دو چار ہے جب کہ اس کا خمیازہ بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز اور ان کے بچے فاکوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔لارڈ میکالے کا سیاہ فرسودہ اکاؤنٹنگ سسٹم پرسنل لیجر اکاؤنٹ صوبائی حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔گزشتہ چار پانچ سالوں سے پرسنل لیجر اکاؤنٹ میں ہر دو تین ماہ بعد پابندی اور توسیع در توسیع کے عارضی اور مصنوعی نظام سے بلدیاتی اداروں کو چلانے کی ناکام کوششوں اور کئی کئی ماہ کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی سے بلدیاتی اداروں کے ملازمین اور پنشنرز بھوک و افلاس سے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں مگر حکومت ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔بلدیاتی مسلمان ملازمین اور پنشنرز عیدین کے مذھبی تہوار، رمضان المبارک اور مسیحی ملازمین اور پنشنرز ایسٹر وغیرہ کے مذھبی تہواروں پر عدم ادائیگی تنخواہ و پنشن کے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہیں اور ان کے بچے کئی کئی مہینوں کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کی وجہ سے فاکوں سے دو چار رہتے ہیں۔لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے سرپرست اعلیٰ شوکت کیانی، صدر حاجی انور کمال مروت، چیئرمین محبوب اللہ، جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی اور پاکستان ورکرز فیڈریشن پاکستان کے xxمرکزی صدر شوکت علی انجم نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی، وزیر بلدیات ودیہی ترقی خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی، وزیر اعلیٰ کے مشیر خزانہ مزمل اسلم ، چیف سیکریٹری سید شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری عابد مجید خان، سیکریٹری خزانہ خیبرپختونخوا کپٹن ریٹایرڈ کامران احمد، سیکریٹری قانون خیبرپختونخوا اختر سعید ترک، سیکریٹری بلدیات و دیکھ ترقی خیبرپختونخوا ظفر الاسلام خٹک اور سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ خیبرپختونخوا وحید الرحمان خان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے فرسودہ پرسنل لیجر اکاؤنٹ کو بلاتاخیر ختم کرکے مستقل اکاؤنٹنگ سسٹم اکاؤنٹ فور پر منتقل کرکے بلدیاتی ملازمین و پنشنرز اور ان کے بچوں کو بھوک و افلاس سے چھٹکارا دلا کر ان کے بچوں کو فاکوں سے نجات دلائی جائے۔بصورت دیگر فیڈریشن آئندہ کے لائحہ عمل طے کرے گی جس کی تمام تر زمہ داری براہ راست صوبائی حکومت پر عائد ہوگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed