خیبر پختونخوا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی گھر گھر گنتی کا فیصلہ

خیبر پخونخوا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی گھر گھر گنتی کا فیصلہ کرلیا گیا۔اسکول نہ جانے والے بچوں کو اسکولوں میں واپس لانے کے لیے 4 محکموں کا اشتراک کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں وزیراعلی محمد سہیل آفریدی کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے گئے ہیں۔منصوبے کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کی درست تعداد اور مقامات معلوم کرنے کے لیے ون میپنظام تشکیل دیا جائے گا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا 49 لاکھ جبکہ محکمہ تعلیم کے مطابق 26 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 60 فیصد اسکول سے باہر بچوں کو فوری طور پر اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ 5 سال تک کے بچوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں سکولوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم کے لیے سرکاری اسکولوں، ڈبل شفٹ، کمیونٹی اسکولز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی شراکت داری سے استفادہ کیا جائے گا۔ غربت کے باعث اسکول چھوڑنے والے بچوں کو وظائف، زکو اور دیگر سماجی معاونت فراہم کی جائے گی۔ 14 سے 16 سال کے نوجوانوں کو اقوام متحدہ کے پروگرام جنریشن ان لمیٹڈکے تحت فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔علاوہ ازیں منصوبے کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر سٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ شفافیت کے لیے آزاد ادارہ سروے شدہ ڈیٹا کے 5 فیصد حصے کی تصدیق کرے گا۔ بچوں کے وظائف کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed