ملاکنڈ میں ٹیکسوں کے نفاذ کیخلاف تحریک دوبارہ شروع کرنے کی تیار

ملاکنڈ ڈویژن میں یکم جولائی سے نافذ ٹیکسوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں تاجر تنظیموں کی جانب سے 23 ستمبر کو ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا گرینڈ جرگہ طلب کر لیا گیا ہے، جس میں ٹیکسوں کے نفاذ، ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ٹریڈ یونینز اور دیگر متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا اور ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف تمام اضلاع کی تاجر تنظیمیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز متحد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے نافذ کیے گئے ٹیکس واپس لیے جائیں، کیونکہ ملاکنڈ ڈویژن کا کوئی بھی فرد کسی بھی قسم کا ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔متعلقہ حلقوں کے مطابق یہ صرف ٹیکسوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان میں انضمام کے وقت کیے گئے فیصلوں کی پاسداری کا معاملہ بھی ہے۔ انضمام کے وقت کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے اور ملاکنڈ ڈویژن کی سابقہ خصوصی حیثیت برقرار رکھی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین میں ملاکنڈ ڈویژن، پاٹا اور فاٹا کی خصوصی حیثیت کا ذکر موجود ہے، جبکہ موجودہ حالات میں آئین کو نظر انداز کرتے ہوئے آرٹیکل 247 کی شق 7 کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کے تحت ان علاقوں کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یکطرفہ فیصلہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ملاکنڈ ڈویژن پہلے ہی قدرتی آفات، دہشت گردی، کمزور تجارتی سرگرمیوں اور دیگر سنگین مسائل سے دوچار ہے، اس لیے یہاں کے عوام اضافی ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ذرائع کے مطابق یکم جون سے ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں بینکوں کے ذریعے چیکوں سے ٹیکس کی کٹوتی کی جا رہی ہے اور یہاں ٹیکس باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس اقدام کے خلاف مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاج اور اپنے جائز حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے 2 ستمبر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے باوجود صوبائی ٹیکس کی کٹوتی جاری رہنے پر مختلف حلقوں نے سخت اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ اکانٹ دفاتر کے حکام کے مطابق سسٹم میں ٹیکس خودکار نظام کے تحت کاٹا جا رہا ہے، جسے مقامی سطح پر ختم یا کم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹیکس کٹوتی کے خودکار نظام میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کا اختیار پشاور میں متعلقہ حکام کے پاس ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو درپیش اس مسئلے کا فوری حل نکالا جائے۔ادھر وفاقی حکومت نے بھی ملاکنڈ ڈویژن، سابقہ پاٹا اور فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں وفاقی وزیر خزانہ، وفاقی وزیر برائے گلگت بلتستان، وزیراعلی خیبرپختونخوا، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر حکام شامل ہیں۔ کمیٹی کو ٹیکسوں کے نفاذ اور اس سے متعلق معاملات پر سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ملاکنڈ ڈویژن کے عوامی حلقوں نے سیاسی جماعتوں کے رہنماں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اس معاملے میں عوام کا ساتھ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماں کو تاجر تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے جرگوں، اجلاسوں اور دیگر فورمز پر اٹھائے جانے والے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت اور ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق عوامی تحفظات دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed