دوالہ چوکارہ: وہ لوگ، وہ حجرے اور وہ وقت جو پھر کبھی نہیں آئیں گے

ڈاکٹر قدرت

آج گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے کچھ فرصت ملی تو دل نے کہا کہ اس فرصت کو محض آرام، نیند اور روزمرہ کی مصروفیات میں ضائع کرنے کے بجائے اپنے گاؤں کی اُن عظیم شخصیات کو یاد کیا جائے جن کے وجود سے کبھی ہماری بستی کی رونق، وقار، تہذیب اور اجتماعی زندگی وابستہ تھی۔ کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں چھوڑتے، وہ اپنے کردار، اپنی باتوں، اپنی روایات اور اپنی محبتوں کی ایسی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں جو نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ آج جب میں ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگ صرف افراد نہیں تھے، وہ ہماری چھوٹی سی بستی کے غیر تحریری آئین، ہماری سماجی درسگاہ اور ہماری اجتماعی زندگی کے مضبوط ستون تھے۔ یہ تحریر میرے لیے محض ایک مضمون نہیں بلکہ اپنے ماضی کو آواز دینے، اپنے بچھڑے ہوئے بزرگوں کو سلام پیش کرنے اور اپنی آنے والی نسل کو یہ بتانے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور ہمارے بزرگوں نے ہمیں کیا ورثہ دیا تھا۔ میں یہ تحریر بالخصوص اپنے دادا جان اول خان مرحوم اور نانا جان شربت خان مرحوم کے نام کرتا ہوں، اور عمومی طور پر اپنے گاؤں کے تمام اُن لوگوں کے نام جنہوں نے اپنی زندگی کسی نہ کسی صورت میں دوالہ کی مٹی کو عزت بخشی۔

اول خان مرحوم اور شربت خان مرحوم ایک دوسرے سے بالکل مختلف مزاج رکھنے والی شخصیات تھیں۔ ایک خاموشی، سادگی، عبادت اور دنیا سے بے نیازی کی تصویر تھا تو دوسرا بے باکی، صاف گوئی، جرات، برجستگی اور اصول پسندی کا پیکر۔ مگر دونوں کے دل ایک ہی مٹی سے بنے ہوئے تھے؛ دونوں میں حرص و لالچ کا شائبہ تک نہ تھا، دونوں اپنے گاؤں کی عزت کو اپنی ذاتی عزت سمجھتے تھے اور دونوں کے لیے انسان کی اصل قدر اس کے کردار، اخلاص اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں تھی۔

میرے دادا اول خان مرحوم نہایت خاموش، کم گو، معصوم، سادہ اور عبادت گزار انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی گاؤں کے کھیتوں، مسجد اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار دی۔ دنیا کی چمک دمک، مال و دولت اور ظاہری آسائشیں شاید ان کے لیے کبھی کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں۔ بچپن میں میری والدہ اور میری پھوپھیاں ہمیں اپنے دادا کے کئی واقعات سنایا کرتی تھیں۔ وہ بتایا کرتی تھیں کہ دادا بہت کم گھر میں قیام کرتے تھے۔ مسجد کے قریب اُس زمانے کے امام حافظ حمید اللہ صاحب کی دادا جان کے لیے بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی کچی کوٹھڑی تھی، وہی ان کا مسکن تھی، وہی ان کا آرام گاہ اور گویا وہی ان کی دنیا تھی۔ ہمارے چچا اور کزن گھر سے ان کے لیے کھانا لے کر اس کچی کوٹھڑی تک جاتے۔ دن کے کسی حصے میں وہ مسجد میں دکھائی دیتے، کسی وقت کھیت میں اور باقی وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہتے۔ آج جب میں جدید دور کے انسان کو آسائشوں کے انبار کے باوجود بے سکون دیکھتا ہوں تو اپنے دادا کی وہ سادہ زندگی یاد آتی ہے اور سوچتا ہوں کہ شاید سکون چیزوں میں نہیں بلکہ دل کے اطمینان میں ہوتا ہے۔

مجھے ایک واقعہ آج بھی بہت دلچسپ لگتا ہے جو میں نے اپنے گھر کے بڑوں سے سنا۔ ایک زمانے میں گاؤں میں طویل عرصے تک بارش نہیں ہوئی۔ کھیت خشک ہونے لگے، لوگ پریشان تھے اور ہر طرف بے یقینی کی کیفیت تھی۔ ایسے وقت میں میرے دادا نے لوگوں کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ رحیم ہے، وہ ضرور اپنی رحمت نازل کرے گا۔ انہوں نے ہمارے گھر کی خواتین کو ہدایت کی کہ بچوں میں کھانے کی کوئی چیز تقسیم کریں اور دوسرے لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کی۔ روایت ہے کہ اگلے ہی روز آسمان جیسے اچانک مہربان ہوگیا، بادل آئے، بارش برسی اور پورا گاؤں خوشی سے جھوم اٹھا۔ شاید یہ محض ایک اتفاق ہو، شاید ایک بزرگ کے ایمان اور توکل کی کہانی، مگر ہمارے لیے یہ واقعہ آج بھی ہمارے دادا کی شخصیت کا حصہ ہے؛ ایک ایسا شخص جو مشکل گھڑی میں بھی لوگوں کو خوف نہیں بلکہ امید دیا کرتا تھا۔

ہمارے گاؤں کی مسجد میں آج بھی ایک بہت بڑا چپٹا پتھر موجود ہے جس کے بارے میں ہمارے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ اسے میرے دادا اول خان نے اپنے کندھے پر اٹھا کر وہاں پہنچایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا وزن تقریباً دو ٹن کے قریب تھا۔ آج کے دور میں جب چار مضبوط نوجوان بھی ایسے پتھر کو آسانی سے حرکت نہیں دے سکتے تو ہم اپنے آباؤ اجداد کی جسمانی طاقت کا تصور کرکے حیران رہ جاتے ہیں۔ شاید ہمارے بزرگ واقعی اس مٹی سے بنے تھے جس میں طاقت بھی تھی، صبر بھی، محنت بھی اور برداشت بھی۔ مگر زندگی کا اصول یہی ہے کہ جسم کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، ایک دن اسے اس دنیا سے رخصت ہونا ہوتا ہے۔ دادا بھی ایک طویل علالت کے بعد کئی ماہ بستر پر رہے اور پھر ایک دن ہمیشہ کے لیے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کے جانے سے شاید ایک انسان کی زندگی ختم ہوئی، مگر ہمارے لیے ایک پورا عہد ختم ہوگیا۔

دوسری طرف میرے نانا شربت خان مرحوم تھے، جن کا مزاج دادا سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ کوہاٹ میں سرکاری ملازمت کرتے ہوئے گزارا۔ وہ انتہائی بہادر، بے باک، صاف گو، برجستہ اور اصول پسند انسان تھے۔ جو بات دل میں ہوتی، بلا جھجک زبان پر لے آتے۔ حجرے میں ان کی موجودگی ہمارے لیے کسی تفریح سے کم نہ ہوتی۔ کبھی کسی کی ایسی نقل اتارتے کہ پوری محفل قہقہوں سے گونج اٹھتی اور کبھی کسی کی غلطی پر ایسی سرزنش کرتے کہ خاموشی چھا جاتی۔ بظاہر ان کے مزاج میں سختی تھی، لیکن اگر کوئی ان کے دل تک پہنچتا تو وہاں عجیب نرمی، سخاوت اور محبت پاتا۔ وہ اصولوں کے آدمی تھے اور اپنے اصولوں کے سامنے کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔

ان کی سب سے خوبصورت عادتوں میں سے ایک یہ تھی کہ وہ اپنی ماہانہ پنشن کو اپنے لیے جمع کرکے رکھنے کے بجائے غریبوں، ضرورت مندوں اور اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں میں تقسیم کرنا پسند کرتے تھے۔ وہ دولت کو اپنے پاس روکنے کے بجائے لوگوں تک پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ شاید اسی لیے ان کے ہاتھ خالی ہوتے ہوئے بھی دل ہمیشہ بھرا رہتا تھا۔ ان کی ایک دلچسپ کمزوری بھی تھی کہ اگر گاؤں میں کوئی شخص آکر انہیں کوئی بات بتاتا تو وہ فوراً اس پر یقین کرلیتے، لیکن جب دوسرا شخص اس کے برعکس کوئی بات دلیل اور ثبوت کے ساتھ پیش کرتا تو بھی انہیں قائل کرنا آسان نہ ہوتا۔ مگر یہی تو انسان کی شخصیت کا حسن ہے؛ ہر بڑے انسان میں کچھ انسانی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں جو اسے کتابی کردار کے بجائے حقیقی انسان بناتی ہیں۔

ہمارے گاؤں کے نوجوان ان کی محفل کے دیوانے تھے۔ حجرے میں ان کے گرد بیٹھنا، ان کی باتیں سننا، ان کے لطیفوں پر ہنسنا اور کبھی ان کی ڈانٹ کھانا بھی ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی لمبی عمر عطا کی۔ وہ تقریباً 104 برس کی عمر تک زندہ رہے اور ہمارے گاؤں میں ایک صدی کی عمر عبور کرنے والے منفرد لوگوں میں شمار ہوئے۔ بڑھاپے میں مختلف بیماریوں نے انہیں گھیر لیا، مگر ان کے حوصلے نے ساتھ نہیں چھوڑا۔ وہ نماز کی پابندی کرتے، قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور اپنے آپ کو اب بھی ایک مضبوط انسان سمجھتے تھے۔ ایک رات پیشاب کے لیے اٹھتے ہوئے اچانک ان کا پاؤں پھسل گیا، ٹانگ کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس حادثے کے بعد وہ مکمل طور پر بستر تک محدود ہوگئے۔ پھر ایک ایسا وقت آیا جب وہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بے ہوشی کی کیفیت میں رہے، یہاں تک کہ ایک دن موت کا فرشتہ آیا اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگئے۔

آج جب میں ان دونوں بزرگوں کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے صرف دو افراد نہیں کھوئے، بلکہ اپنے گاؤں کے دو بڑے ستون کھو دیے۔ وہ ہمارے لیے سایہ دار درختوں کی مانند تھے؛ جن کے نیچے بیٹھ کر نہ صرف سکون ملتا تھا بلکہ زندگی کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا تھا۔ آج ہمارے پاس مسجد بھی ہے، حجرے بھی ہیں، عمارتیں بھی ہیں، راستے بھی ہیں، مگر اُن لوگوں کے بغیر ان جگہوں کی وہ روح کہاں؟ عمارت وہی ہے مگر ماحول بدل گیا، حجرہ وہی ہے مگر محفل نہیں، مسجد وہی ہے مگر اُن بزرگوں کی آوازیں نہیں۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عمارتیں تو ہمارے پاس رہ گئیں مگر ان میں بسی ہوئی روح وقت اپنے ساتھ لے گیا۔

یہ ناانصافی ہوگی اگر میں اپنے گاؤں کے اُن دوسرے بزرگوں کا ذکر نہ کروں جو آج ہمارے درمیان نہیں۔ حاجی عصمت اللہ خان، گل بت خان، گل نواز، کاوس خان، عمر دراز، امیر نواز، رسول خان، گلاب خان، شیردل خان اور شیر مت خان بھی دوالہ کی تاریخ کے روشن کردار تھے۔ ان کے درمیان اختلافات بھی ہوتے تھے، کبھی چھوٹے موٹے جھگڑے بھی ہوجاتے تھے، مگر اختلاف دشمنی میں تبدیل نہیں ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کی عزت، برداشت، صبر اور بھائی چارہ اپنی جگہ قائم رہتا تھا۔ آج جب معمولی اختلافات رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں تو مجھے ان بزرگوں کا دور یاد آتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس وسائل شاید بڑھ گئے ہیں مگر برداشت کا ظرف کہیں کم ہوگیا ہے۔

ہم نے اپنے گاؤں کے کچھ ایسے نوجوان پھول بھی کھوئے جنہیں ابھی کھلنا تھا مگر وقت نے انہیں مرجھا دیا۔ گل دراز، جو محفلوں اور حجرے کی رونق پسند کرتے تھے، تقریباً چھ ماہ قبل دل کے دورے سے ہم سے جدا ہوگئے۔ آفتاب جہاں نہایت نرم، مخلص اور خوش اخلاق نوجوان تھا۔ وہ بی ایس انگلش کا طالب علم تھا، مگر کینسر نے اسے اپنی تعلیم مکمل کرنے کی مہلت نہ دی۔ دانیال، ملک عالم زیب کا بیٹا، ایک سخی اور خوش اخلاق بچہ تھا مگر دل کے دورے نے اسے بھی ہم سے چھین لیا۔ محمد حماد، جو ریٹائرڈ فوجی تھے، بھی دل کے دورے سے دنیا سے رخصت ہوئے۔ امیر بانو، دختر محمد ایوب، ایک باحیا، باکردار، معصوم اور ہمیشہ مسکرانے والی لڑکی تھی، مگر گردوں کی بیماری نے اس کی زندگی کا سفر مختصر کردیا۔ ایسے لوگ جب بہت جلد چلے جاتے ہیں تو صرف ایک گھر نہیں اجڑتا، پورا گاؤں ایک خاموش غم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے اُن بزرگوں کو بھی سلامت رکھے جو آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔ شریف خان، ملکِ گاؤں، میر عباس خان، محیط خان، ماسٹر زربت خان، علی بت خان، اول بادشاہ، قابل بادشاہ، محمد حیات، میر سعادات خان، حاجی محمد ایاز، خوشدل خان، عباس خان، محمد ایوب خان، باقی خان اور دیگر تمام بزرگ ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ خاص طور پر حاجی محمد ایاز کو ہمارے گاؤں کا سب سے قد آور شخص کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ صرف افراد نہیں بلکہ گاؤں کی زندہ تاریخ ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر وقت کی کئی دہائیاں لکھی ہوتی ہیں اور ان کی یادداشت میں ہماری بستی کی وہ تاریخ محفوظ ہوتی ہے جو کسی کتاب میں نہیں مل سکتی۔

ہمارے گاؤں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو خوشی ہو یا غمی، شادی ہو یا جنازہ، کسی ضرورت مند کا گھر ہو یا کوئی اجتماعی کام، ہمیشہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔ ملک عالم زیب، جہانزیب، فہیم اللہ، تحصیل بادشاہ اور بشیر احمد جیسے لوگ بغیر کسی لالچ کے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ ایسے کردار کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ معاشرہ صرف عمارتوں، سڑکوں اور بازاروں سے نہیں بنتا، معاشرہ ان لوگوں سے بنتا ہے جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

جب میں اپنے بچپن کی طرف لوٹتا ہوں تو یادوں کا ایک پورا جہاں آنکھوں کے سامنے آباد ہوجاتا ہے۔ وقت واقعی کتنا بے رحم ہے؛ جو لمحہ کل ہماری زندگی تھا، آج صرف یاد بن چکا ہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک بہت بڑا، قدیم اور گھنا سایہ دار درخت ہوا کرتا تھا جسے ہم گنرگزیونا بیرہ کہتے تھے۔ اس کا بیر انتہائی لذیذ تھا اور اس کی شاخیں جیسے آسمان کو چھونے کی کوشش کرتی تھیں۔ ہم بچے اس پر چڑھتے، کھیلتے اور گھنٹوں اس کے سائے میں گزارتے۔ ہمارا ایک کھیل کچا کچا ہوا کرتا تھا جس میں ایک بچہ لکڑی پھینکتا، دوسرا اسے اٹھانے کے لیے دوڑتا اور باقی بچے اس دوران درخت پر چڑھ جاتے۔ سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ لڑکے اور لڑکیاں سب مل کر کھیلتے تھے۔ اس وقت ہمارے ذہنوں میں وہ صنفی تقسیم نہیں تھی۔ وہ زمانہ سادگی کا زمانہ تھا، بے ساختہ ہنسی کا زمانہ تھا، اعتماد کا زمانہ تھا اور شاید اسی لیے آج وہ یاد بن کر ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے۔

ہمارے گاؤں میں اس وقت چند ہی حجرے تھے اور ہمارا حجرہ اپنی کشادگی اور محلِ وقوع کی وجہ سے سب سے بڑا سمجھا جاتا تھا۔ خوشی ہو یا غمی، لوگ یہاں جمع ہوتے تھے۔ حجرے میں سفید داڑھی والے بزرگ بھی بیٹھتے، جوان بھی اور بچے بھی۔ بچے بزرگوں کے درمیان بیٹھ کر زندگی کے وہ سبق سیکھتے جو آج ہزاروں روپے خرچ کرکے بھی کسی تربیتی ادارے سے حاصل نہیں ہوتے۔ وہاں بزرگوں کی گفتگو ایک غیر رسمی نصاب تھی، ان کا طرزِ عمل ایک عملی کتاب تھا اور ان کی صحبت ایک ایسی درسگاہ تھی جہاں آداب، اخلاق، گفتگو، برداشت، مہمان نوازی، ثقافت، سماجی ذمہ داری اور شخصیت سازی خود بخود منتقل ہوتی تھی۔

بطور طالب سوشیالوجی مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ پشتون معاشرے میں حجرہ محض ایک بیٹھک نہیں تھا؛ یہ ایک مکمل غیر رسمی سماجی ادارہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نئی نسل کی سماجی تربیت ہوتی، ثقافت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی، بزرگوں کی حکمت نوجوانوں تک پہنچتی اور فرد کو یہ احساس دیا جاتا کہ وہ محض ایک الگ انسان نہیں بلکہ ایک اجتماعی وجود کا حصہ ہے۔ افسوس کہ آج تقریباً ہر گھر کے ساتھ چھوٹا یا بڑا حجرہ موجود ہے، مگر حجرے کی وہ روح کہیں نظر نہیں آتی۔ عمارتیں بڑھ گئی ہیں، مگر محفلیں کم ہوگئی ہیں؛ دیواریں بلند ہوگئی ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھ گئے ہیں۔ آج کئی حجرے ایسے ہیں جن میں صرف خاموشی رہتی ہے، جیسے وہ بھی اپنے گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرکے اداس ہوں۔

جب میں اپنے گاؤں جاتا ہوں اور نوجوان نسل کو موٹر سائیکلوں، اسمارٹ فونز اور ٹک ٹاک کی دنیا میں حد سے زیادہ مصروف دیکھتا ہوں تو دل واقعی خون کے آنسو روتا ہے۔ میں ٹیکنالوجی کا مخالف نہیں ہوں۔ ٹیکنالوجی ہماری ضرورت ہے، جدید دنیا کا لازمی حصہ ہے اور اگر درست طریقے سے استعمال کی جائے تو تعلیم، روزگار، رابطے اور ترقی کے بے شمار دروازے کھول سکتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو استعمال کررہے ہیں یا ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کررہی ہے؟ اگر موبائل ہمارے ہاتھ میں ہو تو یہ آلہ ہے، لیکن اگر موبائل ہمارے ذہن، وقت، توجہ اور ترجیحات پر قابض ہوجائے تو پھر یہ سہولت نہیں رہتا، مسئلہ بن جاتا ہے۔

مجھے اس وقت زیادہ دکھ ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ وہ حجرے جو کبھی تربیت، مشاورت، شخصیت سازی اور اجتماعی زندگی کے مراکز تھے، بعض جگہ صرف موسیقی، رقص اور تفریح کے مراکز بنتے جارہے ہیں۔ میں کسی مناسب ثقافتی اظہار کے خلاف نہیں، لیکن ہر جگہ اور ہر ادارے کا ایک سماجی مقصد ہوتا ہے۔ پشتون تاریخ میں رقص کی اپنی جگہ اور اپنی روایت ہے، مگر حجرے کی بنیادی روح اجتماعیت، احترام، تربیت، مشاورت، مہمان نوازی اور سماجی ہم آہنگی تھی۔ اگر ہم نے اپنے حجرے سے تربیت نکال دی اور صرف تفریح باقی رہنے دی تو ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم نے اپنی روایت کے ساتھ کیا کیا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ یہ باتیں سب کو پسند نہیں آئیں گی۔ اگر میں کسی نوجوان کو براہِ راست سمجھانے کی کوشش کروں تو شاید جواب ملے: آپ کون ہوتے ہیں ہمیں سکھانے والے؟ ہم اپنے کام کے مالک ہیں، آپ اپنا کام کریں۔” لیکن میں پھر بھی لکھوں گا، کیونکہ میرے نزدیک اگر میری ایک تحریر صرف ایک نوجوان کو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کردے تو یہ میرے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایک سماجی تبدیلی ہمیشہ ایک بڑے نعرے سے نہیں آتی؛ کبھی ایک جملہ کسی ایک ذہن میں سوال پیدا کرتا ہے، وہ سوال سوچ پیدا کرتا ہے، سوچ رویہ بدلتی ہے، اور رویوں کی اجتماعی تبدیلی بالآخر معاشرے کی ساخت کو بدل دیتی ہے۔

اسی لیے میں اپنے تمام معزز گاؤں والوں سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت، بھائی چارے، برداشت، صبر اور احترام کے ساتھ رہیں۔ ہم ایک ہی مٹی کے بیٹے ہیں، ہمارے بزرگ مشترک ہیں، ہماری تاریخ مشترک ہے اور ہماری شناخت بھی مشترک ہے۔ معمولی اختلافات کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ ایک دوسرے کے دکھ میں شریک ہوں، خوشی میں شریک ہوں، اپنے بچوں کی تربیت اجتماعی ذمہ داری سمجھیں اور اپنے بزرگوں کی صحبت کو بوجھ نہیں بلکہ نعمت سمجھیں۔ اگر ہم آج اپنے بزرگوں کے کردار کو یاد کریں اور ان کی اچھی روایات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو شاید کل ہماری آنے والی نسلیں بھی ہمارے بارے میں اسی محبت سے لکھیں گی جس محبت سے آج میں اپنے دادا اول خان اور نانا شربت خان کو یاد کررہا ہوں۔

آخر میں، دوالہ کے ایک رہائشی اورسوشیالوجی کے طالب علم کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ اپنی بستی کے لوگوں، اس کے بزرگوں، اس کی روایات اور اس کی اجتماعی زندگی کو یاد کرنا بھی ایک طرح کی سماجی ذمہ داری ہے۔ میں نے اپنے حصے کا یہ چھوٹا سا فرض ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر میری کسی بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ میرا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اپنے معاشرے کے بدلتے ہوئے چہرے کو دیکھنا اور اس پر محبت کے ساتھ سوچنے کی دعوت دینا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام مرحومین، بالخصوص اول خان مرحوم، شربت خان مرحوم اور ہمارے تمام بچھڑے ہوئے بزرگوں کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ہمارے زندہ بزرگوں کو صحت، سلامتی اور لمبی عمر عطا فرمائے، ہمارے نوجوانوں کو اپنی ثقافت، اقدار اور ذمہ داریوں کا شعور دے، ہمارے گاؤں میں محبت اور بھائی چارہ قائم رکھے اور دوالہ چوکڑہ کو ہمیشہ امن، خوشحالی اور اجتماعی یکجہتی کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔

کچھ لوگ بچھڑ کر بھی کہاں ہم سے بچھڑتے ہیں،
وہ یاد بن کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed