گورنر ہاؤس پشاور میں جشنِ آزادی اور پاک چین دوستی کی یادگار تقریب

رپورٹ :  شعیب جمیل ، عدنان بشیر

گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام پاکستان کے جشنِ آزادی کے سلسلے میں منعقد ہونے والی پروقار تقریب قومی یکجہتی، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، کھیل، ثقافت اور پاکستان چین لازوال دوستی کا حسین امتزاج ثابت ہوئی۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، اعلی سول و سرکاری حکام، ماہرین ِ تعلیم، صحافیوں، فن کاروں، کھلاڑیوں، طلبہ و طالبات اور صدارتی و قومی اعزازات یافتہ شخصیات کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں سکواش کے سابق عالمی چیمپئن قمر زمان، سینئر صحافی ارشد عزیز ملک، چائنہ کلچرل سنٹر کی ایڈوائزر بائی جی، مسٹر چن تیان تیانگ اور دیگر مہمان خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ گورنر ہاؤس میں پاکستان اور چین کے قومی پرچموں، ملی نغموں، نوجوانوں کے جوش و جذبے اور پاک چین دوستی کے رنگوں نے تقریب کو ایک منفرد اور یادگار ماحول فراہم کیا۔تقریب کی ایک خاص بات پشاور ماڈل ایجوکیشنل نیٹ ورک کی طالبات کی شاندار پرفارمنس تھی۔ طالبات نے قومی نغمے پر انتہائی خوب صورت اور متاثر کن انداز میں پرفارم کیا جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔

 

ان کی ہم آہنگی، جذبہ حب الوطنی اور خوب صورت پیشکش نے تقریب کو مزید رنگا رنگ بنا دیا اور گورنر سمیت تمام مہمانوں نے ان کی کارکردگی کو سراہا۔چائنہ ونڈو کے ایڈمنسٹریٹر امجد عزیز ملک نے اپنے افتتاحی خطاب میں تقریب کو پاکستان کے جشن ِ آزادی اور پاکستان چین لازوال دوستی کی دوہری خوشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادی ہمارے بزرگوں کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت افروز قیادت کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی صرف پرچم لہرانے یا قومی نغمے سننے تک محدود نہیں بلکہ یہ دن ہر پاکستانی کو یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اس نے اپنے وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت نوجوان نسل ہے اور اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ہنر اور بین الاقوامی تجربات کے مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔امجد عزیز ملک نے پاکستان اور چین کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی محض حکومتوں یا سفارتی اداروں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ سی پیک نے اس دوستی کو اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوش حالی کی ایک نئی جہت عطا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چائنہ ونڈو پشاور اسی عوامی سفارت کاری کا ایک عملی مظہر ہے۔ اکتوبر 2018 میں قائم ہونے والے اس ثقافتی و معلوماتی مرکز نے خیبر پختونخوا کے عوام کو چینی تاریخ، ثقافت، زبان، ترقی اور سی پیک کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ لاکھوں افراد چائنہ ونڈو کی گیلریوں، نمائشوں، سیمینارز اور ثقافتی پروگراموں سے استفادہ کر چکے ہیں جبکہ نوجوانوں کے لئے چینی زبان کے مفت کورسز بھی باقاعدگی سے منعقد کئے جا رہے ہیں۔ تقریب میں بتایا گیا کہ اب تک تقریبا ساڑھے آٹھ سو طلبہ و طالبات ایچ ایس کے ون اور ایچ ایس کے ٹو کورسز میں شرکت کر چکے ہیں۔تقریب میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا ایک یادگار لمحہ اس وقت آیا جب پشاور کے باصلاحیت طالب علم حمزہ علی کو اعلی تعلیم کے لئے اسکالرشپ ایوارڈ کیا گیا اور گورنر فیصل کریم کنڈی نے انہیں اسکالرشپ سے متعلق دستاویزات حوالے کیں۔ یہ چائنہ ونڈو کی جانب سے فراہم کیاجانے والاساتواں اسکالرشپ ہے جو پاکستان میں چینی سفارت خانہ کی جانب سے دیا جاتا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حمزہ علی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ بیرونِ ملک صرف اپنے خاندان یا شہر کی نہیں بلکہ پاکستان اور خیبر پختونخوا کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے نوجوان طالب علم پر زور دیا کہ وہ جدید علم اور تجربہ حاصل کرکے وطن واپس آئے اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرے۔گورنر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے یوم آزادی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی تحفے کے طور پر حاصل نہیں ہوا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں طویل سیاسی اور جمہوری جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد ایک آزاد ریاست قائم کی۔انہوں نے کہا کہ آزادی اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے اور اس کی قدر محض تقریبات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں۔ پاکستان کو پرامن، ترقی یافتہ، خوش حال اور مضبوط جمہوری ملک بنانے کے لیے قانون کی بالادستی، آئین کا احترام، مساوی حقوق، تعلیم، روزگار، خواتین کی قومی ترقی میں شرکت اور قومی یکجہتی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوان ذہانت، بہادری، صلاحیت اور محنت میں کسی سے کم نہیں اور انہیں تعلیم، تحقیق، کھیل، جدید ہنر اور بین الاقوامی تجربات کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان چین تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی دنیا کے بین الاقوامی تعلقات میں منفرد مقام رکھتی ہے اور وقت، حالات اور حکومتوں کی تبدیلی سے بالاتر ہے۔ چین نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اہم تعاون کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف سڑکوں، بجلی گھروں اور صنعتی منصوبوں کا نام نہیں بلکہ علاقائی رابطوں، تجارت، روزگار اور مشترکہ خوش حالی کا ایک وسیع تصور ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور خیبر پختونخوا ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔گورنر نے چائنہ ونڈو کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خیبر پختونخوا کے عوام کو چین کی تاریخ، ثقافت، زبان، ترقی اور سی پیک کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ انہوں نے بالخصوص نوجوانوں کے لیے چینی زبان کے مفت کورسز کو قابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ زبان سیکھنے سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ قوموں کے درمیان اعتماد اور باہمی احترام میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔تقریب میں 14 جون 2026 کو دریائے کابل، سردریاب میں منعقد ہونے والے پاکستان کی تاریخ کے پہلے ڈریگن بوٹ فیسٹیول کے شرکا، ٹیموں اور منتظمین میں ٹرافیاں اور تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے اسے ایک تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈریگن بوٹ فیسٹیول نے نہ صرف پاکستان میں ایک نئے کھیل کو متعارف کرایا بلکہ کھیل اور ثقافت کے ذریعے پاکستان چین دوستی کا پیغام عام لوگوں تک پہنچایا۔

تقریب کا ایک اور انتہائی اہم اور دلکش حصہ پاک چین دوستی کے نئے قومی ترانے کی باضابطہ رونمائی تھا، جسے چائنہ ونڈو نے پاکستان ٹیلی وژن پشاور مرکز کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ نغمے میں پاکستان اور چین کے عوام کی محبت، باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مستقبل کے جذبے کو خوب صورت انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔امجد عزیز ملک نے ترانے کی تیاری میں پی ٹی وی پشاور کے جنرل منیجر ابراہیم کمال کی خصوصی دلچسپی اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا جبکہ گورنر نے شاعر، موسیقار، گلوکاروں، پروڈیوسرز، کیمرا ٹیم، ایڈیٹرز اور دیگر فن کاروں کو مبارک باد پیش کی۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ موسیقی ایک عالمی زبان ہے اور پاک چین دوستی پر مبنی نغمے نئی نسل کو دونوں ممالک کے تعلقات کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو جامعات، تھنک ٹینکس، ذرائع ابلاغ، فن کاروں، کھلاڑیوں، تاجروں اور نوجوانوں کے براہِ راست روابط تک مزید وسعت دی جانی چاہیے۔تقریب کے دوران پاکستان کے یومِ آزادی کی خوشی میں خصوصی کیک بھی کاٹا گیا۔ گورنر، چائنہ ونڈو کی انتظامیہ، چینی مہمانوں اور دیگر ممتاز شخصیات نے مشترکہ طور پر کیک کاٹا۔

تقریب مجموعی طور پر پاکستان کے جشنِ آزادی کو روایتی انداز سے ہٹ کر تعلیم، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، کھیلوں، ثقافت اور بین الاقوامی دوستی سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش ثابت ہوئی۔ ایک ہی پلیٹ فارم پر قومی نغمے، اسکالرشپ ایوارڈ، ڈریگن بوٹ فیسٹیول کے کھلاڑیوں کی پذیرائی، پاک چین دوستی کے ترانے کی رونمائی اور جشن آزادی کا کیک کاٹنے کی تقریب نے اسے ایک ہمہ جہت اور یادگار قومی تقریب بنا دیا۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی ترقی، قومی اتحاد، جمہوریت، امن، برداشت اور عوامی خوش حالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی جبکہ پاکستان اور چین کی دوستی کو تعلیم، زبان، ثقافت، کھیل، میڈیا اور عوامی رابطوں کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے گا۔چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام گورنر ہاس پشاور کی یہ تقریب بلاشبہ جشنِ آزادی کی تقریبات میں ایک منفرد اضافہ تھی جس نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی آزادی کا جشن صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ نئی نسل کو علم، مواقع اور امید دینے اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کا عہد بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed