پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہی واحد آپشن ہے، جس سے اسلام آباد مارچ روکا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، سہیل آفریدی نے کہا بانی سیملاقات کرادی جائے تومارچ رک سکتا ہے ، ملاقات ہی واحد آپشن ہے جس سے اسلام آباد مارچ روکا جا سکتا ہے۔جنید اکبر کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے نکلیں گے، اگر 27 ستمبر کی تاریخ نہ دیتے تو نوجوان قیادت کے بغیر ہی نکل آتے۔انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے ذریعے راستہ نکالنے کی آخری حد تک کوشش کی، لیکن ہماری مفاہمت کو کمزوری سمجھا گیا، اب ہمارے پاس لانگ مارچ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا۔پی ٹی آئی میں گروپ بندی اور اختلافات سے متعلق جنید اکبر نے کہا کہ وہ پارٹی میں گروپ بندی اور اختلافات کی تردید نہیں کرسکتے، پارٹی میں اختلاف رائے ہے تاہم بانی پی ٹی آئی کے نام پر سب متحد ہوجاتے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ایم این اے کی اپنے عوام سے کمٹمنٹ ہوتی ہے، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ارکان اسمبلی کی اپنے عوام سے ذمہ داریاں ہوتی ہیں، رات ایک بجے پیغام دیا گیا، جس کے باعث لوگوں کو پہنچنے میں دیر ہوئی، اگر وقت پر اطلاع دی جاتی تو تمام ارکان پہنچ جاتے۔جنید اکبر نے مزید کہا کہ کل تمام ارکان اسمبلی وقت پر پہنچ جائیں گے، ہمیں حکومت سے کسی اچھی چیز کی توقع نہیں اور کسی نے ہمیں کوئی تسلی نہیں دی، کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، ہمیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ اپوزیشن لیڈر کس پارٹی سے ہے، لیاقت باغ جلسہ ملکی مفاد میں ملتوی کیا، تاہم ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا گیا۔نئے صوبوں کے معاملے پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل سے متعلق معاملات آئین کے مطابق ہونے چاہئیں، عوام کی منتخب پارلیمنٹ فیصلہ کرے کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔انہوں نے نئی آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا معاملہ توجہ ہٹانے کے لیے ہے، ہم نئی ترمیم پر مزاحمت کریں گے۔







