پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں فائیو جی سروس کے پہلے مرحلے کے تحت ہر موبائل فون کمپنی کے لیے 2028 تک 2,000 فائیو جی سائٹس قائم کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق فائیو جی کے نفاذ کا پہلا مرحلہ 2026 سے 2028 تک جاری رہے گا۔ اس دوران ہر لائسنس یافتہ موبائل آپریٹر کو کم از کم 2,000 فائیو جی سائٹس نصب کرنا ہوں گی۔اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں موجود 4جی سائٹس میں سے کم از کم 20 فیصد کو فائیو جی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا بھی لازمی ہوگا۔روڈ میپ کے مطابق موبائل کمپنیوں کو فائبر ٹو دی ٹاور (ایف ٹی ٹی ایس) کا تناسب بڑھا کر 20 فیصد تک لے جانا ہوگا تاکہ نیٹ ورک کی استعداد میں اضافہ ہو اور فائیو جی سروس کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔پی ٹی اے نے موبائل براڈ بینڈ کے معیار کے لیے بھی نئے اہداف مقرر کیے ہیں۔دستاویز کے مطابق موجودہ 4 میگا بِٹ فی سیکنڈ کی اوسط 4جی رفتار کو بڑھا کر 20 میگا بِٹ فی سیکنڈ کی درمیانی رفتار تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ فائیو جی کے لیے کم از کم 50 میگا بِٹ فی سیکنڈ کی بنیادی رفتار مقرر کی گئی ہے جسے مرحلہ وار بڑھا کر 100 میگا بِٹ فی سیکنڈ کی درمیانی رفتار تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔دستاویز کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں پہلے مرحلے پر عملدرآمد شروع کر چکی ہیں۔ اب تک جاز 176 فائیو جی سائٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ زانگ نے 147 اور یوفون نے 22 سائٹس قائم کی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 345 فائیو جی سائٹس نصب کی جا چکی ہیں۔دستاویز کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ٹیلی کام آلات کی بڑے پیمانے پر خریداری اور درآمد، نئے سپیکٹرم بینڈز کا نیٹ ورک میں انضمام، نیٹ ورک کی جدیدکاری اور فائیو جی سے مطابقت رکھنے والے موبائل فونز کی تیاری جیسے اقدامات کیے گئے جن کی وجہ سے تجارتی بنیادوں پر سروس شروع ہونے میں وقت لگا۔پی ٹی اے کے مطابق جن علاقوں میں نئے بیس ٹرانسیور اسٹیشنز (بی ٹی ایس) اور نیٹ ورک اپ گریڈیشن مکمل ہو چکی ہے وہاں موبائل کمپنیاں بہتر 4جی کارکردگی کے ساتھ ساتھ فائیو جی خدمات بھی فراہم کرنا شروع کر چکی ہیں۔روڈ میپ کے مطابق 2028 کے بعد بھی فائیو جی کے نفاذ کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا جبکہ پی ٹی اے ملک بھر میں فائیو جی سروس کی فراہمی کے دوران موبائل کمپنیوں کی پیش رفت، مقررہ اہداف پر عملدرآمد اور سروس کے معیار کی مسلسل نگرانی کرے گا۔







