خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں مذہبی جماعتوں سمیت دیگر سیاسی قوتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ محض ایک دن کی سرگرمی نہیں ہوگی، اس میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔ ہم مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کریں گے اور اس حوالے سے تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے بنیادی، آئینی اور قانونی حقوق کے حصول کے لئے پاکستان تحریک انصاف نے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا، تاہم ان کے آئینی و قانونی حقوق سلب کیے گئے اور تمام راستے مسدود کیے گئے ہیں۔ اب ہمارے پاس لانگ مارچ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک کو ملک گیر سطح پر منظم کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں کا بھی رخ کر رہے ہیں جبکہ مختلف جامعات میں سیمینارز کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے اور اقبال کے شاہین نوجوان اس تحریک کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں عوام کی شرکت لاکھوں میں ہوگی۔شفیع جان نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی بھی موجودہ حکومت سے چھٹکارا چاہتی ہے تو اسے وفاقی حکومت میں شامل آئینی عہدے چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے والے حکمرانوں کو اب عوام کی عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ عوامی مینڈیٹ کی بحالی، آئین و قانون کی بالادستی اور عمران خان کی رہائی کے لیے ہماری پرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔







