پاکستان ہندکووان تحریک کے صدر اکبر سیٹھی نے وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے نشتر ہال پشاور میں ایک کنونشن کے دوران اے سی خراب ہونے کے واقعے پر مبینہ طور پر الیکٹریشن کو فارغ کرنے، سیکرٹری کے تبادلے اور نشتر ہال کے انچارج کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتظامی غفلت پر فوری کارروائی کا اختیار موجود ہے تو پھر صوبے میں عوام کو درپیش بڑے مسائل پر بھی اسی معیار کی جواب دہی کیوں نظر نہیں آتی؟اکبر سیٹھی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، فیڈر ٹرپ ہونے، لائنوں میں خرابی اور ٹرانسفارمرز کے مسائل عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ بعض مواقع پر بجلی کے وولٹیج میں اتار چڑھا کے باعث شہریوں کی قیمتی الیکٹرانک اشیا بھی متاثر ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان مسائل کے ذمہ دار متعلقہ اعلی افسران کے خلاف کتنی مثر کارروائی کی گئی؟انہوں نے کہا کہ گیس کے بحران اور پشاور کی سڑکوں کی بار بار کھدائی نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ گیس پائپ لائنوں کی تنصیب اور سڑکوں کی بحالی کے معاملات میں شفافیت اور معیار پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں، جبکہ شہریوں کو گیس کی قلت کے باوجود باقاعدگی سے بل موصول ہوتے ہیں۔ اکبر سیٹھی نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ محکمے کی کارکردگی اور ذمہ دار افسران کا بھی اسی طرح احتساب کیا جائے۔پاکستان ہندکووان تحریک کے صدر نے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (WSSP) کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہری پانی کے معیار، صفائی اور نکاسی آب کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو بنیادی سہولیات مطلوبہ معیار کے مطابق فراہم نہیں ہو رہیں تو ذمہ دار حکام سے کارکردگی کے بارے میں جواب طلبی ہونی چاہیے۔انہوں نے تعلیمی نظام کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے نتائج اور معیارِ تعلیم کے حوالے سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ناقص تعلیمی نتائج کی صورت میں متعلقہ افسران اور نظام چلانے والوں کے خلاف کیا عملی اور انتظامی اقدامات کیے گئے؟اکبر سیٹھی نے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض سرکاری ہسپتالوں میں بستروں، آکسیجن، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ انہوں نے حالیہ مبینہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مریض کو مردہ قرار دینے کے بعد ایک اہم اور سفارشی کال آنے پر مردہ کیسے ذندہ اور پھر زیر علاج ہو جاتا ہے اب کیا غریب عوام اپنے پیاروں کے علاج کے لئیے پہلے اہم سفارشی ڈھونڈیں گے ۔







