یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی صوبہ نجران پر حملہ کیا جس میں 11 شہری زخمی ہو گئے۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ حوثی باغیوں کے حملہ کے زخمیوں میں 7 سعودی شہری، ایک یمنی، 2 مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں، جبکہ متاثرین میں چار سالہ بچہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں نے شہری آبادی کو اندھا دھند نشانہ بنایا، یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔علاوہ ازیں سعودی عرب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی نگرانی میں عراقی ملیشیا اور یمن کے حوثی باغی شمال اور جنوب سے جلد مشترکہ حملے کر سکتے ہیں۔سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبررساںادارے کو بتایا سعودی عرب، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ممکنہ حملوں میں توانائی تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر شہری و معاشی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔سعودی حکام نے ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی ہے جس سے بیک وقت مختلف سمتوں سے حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں، یہ کارروائیاں ایران سمیت مختلف فریقوں کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھی کی جا سکتی ہیں۔امریکا کے ساتھ دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون انتہائی مضبوط ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مثر جواب دینے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔







