خیبرپختونخوا کا نظام صحت مکمل تباہ ہوچکا ہے، نگہت اورکزئی

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما وسابق رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نگہت اورکزئی نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نااہلی، سیاسی مداخلت اور ناکام پالیسیوں کے باعث خیبر پختونخوا کا نظام صحت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، لیکن کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے۔ اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے شعبہ صحت میں انقلابی تبدیلیوں کے بہت بڑے دعوے کئے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری ہسپتال ادویات، ڈاکٹرز، نرسز، تشخیصی سہولیات اور جان بچانے والے طبی آلات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مجبور مریض نجی ہسپتالوں میں مہنگا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔نگہت اورکزئی نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے، اصلاحات کے تمام تر دعوے صرف تقاریر اور اشتہارات تک محدود ہیں،احتساب کے فقدان نے سرکاری ہسپتالوں کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے اور گزشتہ کئی برسوں میں شعبہ صحت پر اربوں روپے خرچ کئے گئے، مگر اس کے باوجود عام شہری آج بھی ہسپتالوں میں سنگین مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے،ہسپتالوں میں میرٹ پر تقرریاں کی جائیں اور پورے صوبے میں صحت کی سہولیات کی بحالی کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے نہایت سخت الفاظ میں کہا کہ امریکہ میں بیٹھا عمران نیازی کاکزن ڈاکٹر نوشیروان برکی ٹیلی فون کے ذریعے پختونخوا کے بڑے تدریسی ہسپتالوں کو بے رحمی سے چلا رہا ہے، حالیہ بجٹ میں باقی ہسپتالوں کے مقابلے میں ان ہسپتالوں کیلئے اربوں روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ کارکردگی صفر ہونے کے باوجود کوئی بھی وزیر اعلی اسے نہیں ہٹا سکا ہے۔ نگہت اورکزئی نے پرزور مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر نوشیروان برکی ایک امریکی شہری ہے اور قانون کے مطابق وہ کوئی بھی سرکاری ہیلتھ پالیسی بنانے کا اہل نہیں، اس لئے اسے فوری طور پر ہٹایا جائے، ورنہ وہ اس کے خلاف عدالت جائیں گی، کیونکہ اس نے ہسپتالوں کو اتنی بڑی تباہی سے دوچار کیا ہے کہ انسانی جان بچانے والی ادویات دستیاب نہیں اور کچھ وقت پہلے جب ان پر فالج کا حملہ ہوا تو ایل آر ایچ میں متعلقہ انجکشن موجود نہیں تھا جس کے نتیجے میں وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed