بہتر انتظامی حکمت عملی، مضبوط طرزِ حکمرانی، طبی سہولیات کی اپ گریڈیشن اور مریض دوست پالیسی کے باعث ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو)ہسپتال وانا جنوبی وزیرستان کے عوام کے لیے ایک قابلِ اعتماد طبی ادارے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔پاکستان کے دور افتادہ اور اہم ترین علاقوں میں واقع ڈی ایچ کیو ہسپتال وانا میں اس وقت نمایاں بہتری آئی جب خیبرپختونخوا حکومت کی آئوٹ سورسنگ پالیسی کے تحت میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فائونڈیشن نے ہسپتال کا انتظام سنبھالا۔ ایم ای آر ایف ایک بین الاقوامی فلاحی ادارہ ہے جو حکومتوں کے ساتھ مل کر معیاری، مساوی، مئوثر اور کم لاگت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کرتا ہے ایم ای آر ایف خیبرپختونخوا کے صوبائی منیجر ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق ہسپتال میں 14ماہر ڈاکٹرز، 24 میڈیکل آفیسرز، 22 نرسیں، 38 پیرا میڈکس اور تقریبا 150 انتظامی و معاون عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد 64,414 سے بڑھ کر 742,964، نارمل اور سیزیرین ولادتیں 690 سے 13,547، لیبارٹری ٹیسٹ 9,471 سے 939,693، انڈور مریض 2,419 سے 132,162 اور سرجریاں 677 سے 29,201 تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح مکمل حفاظتی ٹیکے لگوانے والے بچوں کی تعداد 161 سے بڑھ کر 1,228 ہو گئی۔ ایم ای آر ایف نے رجسٹریشن یونٹ، ایمرجنسی، او پی ڈی، آپریشن تھیٹر، لیبارٹری، لیبر روم، وارڈز اور ڈینٹل یونٹ کو بھی اپ گریڈ کیا، جس سے علاج معالجے کے معیار، مریضوں کی سہولت اور انفیکشن سے بچا کے اقدامات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ حکام نے اس پیش رفت کا سہرا محکمہ صحت، ایم ای آر ایف اور ہسپتال کے طبی و انتظامی عملے کی مشترکہ کاوشوں کو دیتے ہوئے معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا







