
رپورٹ: ضیاء الاسلام
خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے زیراہتمام حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں پہلی "کھلی کچہری” کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی عمائدین اور فیکٹری ورکروں نے انڈسٹری سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا تقریب میں خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر سفیر اختر اعوان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکا کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اس موقع پر زیڈ ایف سی کے چیئرمین فیصل عتیق، حطار انڈسٹریلٹس ایسوسی ایشن کے قائم مقام چیئرمین حاجی عطاالرحمن، زون منیجر فیصل عزیز ، اے سی ایم انڈسٹریز کے منیجر شاہد عزیز, حیدری بورڈ کے مظفر حسین بہو سوپ کے شیخ الیاس اور اے آر پروسیسنگ کے محمودالرحمن نے بھی شرکت کی تقریب کے مہمان خصوصی سفیر اختر اعوان نے کھلی کچہری کے شرکا کو بتایا کہ کے پی ای زیڈ ڈی ایم سی کی بزنس ڈویلپمنٹ کمیٹی نے حطار انڈسٹریل زون کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ساڑھے 6 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے جس پر بہت جلد عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا

ٹریفک کے ابتر نظام اور پارکنگ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے 10 ایکڑ اراضی پر ٹرک اسٹینڈ جس سے ٹریفک سے متعلقہ تمام مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا جبکہ 4 کنال اراضی پر پولیس سہولت مرکز قائم کیا جا رہا ہے جس کے قیام سے پولیس سے متعلقہ تمام مسائل انڈسٹریل زون کی دہلیز پر حل ہونگے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (CSR) کے تحت قرشی انڈسٹریز کے تعاون سے 4 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کی 4 کنال اراضی پر اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال اور برن یونٹ بنایا جائے گا اس موقع پر موجود صنعتکاروں نے تقریب میں انکشاف کیا گیا کہ سالانہ 103 ارب روپے کے بجلی بلز کی ادائیگی کے باوجود واپڈا کا ایک لائن مین بھی ہمیں نہیں دیا گیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زون منیجر حطار اکنامک زون فیصل عزیز نے کہا کہ صنعتوں اور ورکروں کی ترقی لازم و ملزوم ہے صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب اور شجرکاری مہم ترجیحات ہماری میں شامل ہیں اس موقع پرحطار انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی عطا الرحمان نے کہا کہ ٹیکسوں سے بھرمار سے صنعت کا پہیہ رک جائے گا معاشی پہیہ رواں دواں رکھنے کے لیے حکومت کو صنعتکاروں سے تعاون کرنا ہوگا

تبھی مسائل کا مستقل حل نکلے گا ٹیوٹا کے ممبر اور زیڈ ایف سی کے چیئرمین فیصل عتیق نے دوٹوک مقف اپنایا کہ مزدوروں کا 100 فیصد فنڈز صرف اور صرف لیبر کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ ہونا چاہیے محکمہ سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ میں 30 ہزار لیبر رجسٹرڈ ہے اور ان کو سالانہ 60 کروڑ روپے دیے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ورکرز کو بنیادی سہولیات مہیا نہیں کی جارہی ہیںکھلی کچہری کے دوران مقامی عمائدین اور شرکا نے زون کے سنگین مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا انہوں نے تجاوزات، خستہ حال سڑکیں، شدید ٹریفک جام، روڈ بلاکیجز، آلودگی اور تباہ حال سیوریج کے نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ،تقریب کے آخر میں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے حطار میں جدید اسپتال اور برن یونٹ کے قیام کے لیے قرشی انڈسٹریز کو اراضی فراہم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا اور اسے صنعتی زون کے مزدوروں اور مقامی آبادی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا گیا۔








