اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ فائنل نے امریکا میں ناظرین کی تعداد کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جہاں تقریبا 6 کروڑ 30 لاکھ( 63 ملین)افراد نے میچ دیکھا۔نیوجرسی میں کھیلا گیا فائنل مقابلہ مقررہ وقت میں بغیر کسی گول کے برابر رہا، تاہم اسپین نے اضافی وقت کے 106 ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کر کے ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔امریکی نشریاتی ادارے فوکس کے مطابق انگریزی نشریات کو 3 کروڑ 89 لاکھ ناظرین نے دیکھا، جبکہ ٹیلی مونڈو اور اس کے اسٹریمنگ پلیٹ فارم پیکاک پر ہسپانوی زبان کی نشریات کو 2 کروڑ 39 لاکھ افراد نے دیکھا۔ مجموعی طور پر یہ تعداد 2022 ورلڈ کپ فائنل کے امریکی ناظرین 2 کروڑ 23 لاکھ سے کہیں زیادہ رہی۔رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے کئی ناک آئوٹ مرحلے کے میچز نے امریکا کی دیگر بڑی کھیلوں کی چیمپئن شپ کے مقابلوں سے بھی زیادہ ناظرین حاصل کیے۔ انگلینڈ اور میکسیکو کے درمیان پری کوارٹر فائنل کو تقریبا 4 کروڑ 50 لاکھ افراد نے دیکھا، جو ایم ایل بی ورلڈ سیریز اور این بی اے فائنلز کے فیصلہ کن میچوں سے نمایاں طور پر زیادہ تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ فٹبال امریکا میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جہاں ماضی میں امریکی فٹبال، باسکٹ بال اور بیس بال کو زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔اس بار ورلڈ کپ کی میزبانی پہلی مرتبہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ امریکی ناظرین کیلئے موزوں اوقات میں میچز کا انعقاد بھی زیادہ ویور شپ کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے عالمی ستاروں کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ میں شرکت نے بھی شائقین کی دلچسپی میں اضافہ کیا۔میڈیا ماہرین کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران اشتہارات سے نشریاتی اداروں کو بھی بھاری مالی فائدہ ہوا، ناک آٹ مرحلے کے میچز میں 30 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 10 لاکھ ڈالرز تک جا پہنچی، جبکہ نئے متعارف کرائے گئے ہائیڈریشن بریکس نے بھی اضافی اشتہاری مواقع فراہم کیے۔







