اسرائیل نے عالمی این جی اوز کی جانچ پڑتال شروع کردی

اسرائیلی حکومتی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے 2013 میں دنیا بھر کے 150 سے زائد فلاحی اور انسانی امدادی اداروں کی معلومات جمع کیں اور بعض اداروں کو اسرائیل مخالف یا بی ڈی ایس (بائیکاٹ، سرمایہ نکالنے اور پابندیوں کی تحریک)سے وابستہ قرار دیا۔عرب ٹی وی کو حاصل ہونے والی اسپریڈ شیٹ میں اداروں کے سربراہان، پتے، فون نمبرز، ای میلز اور شعبہ کار کے ساتھ تبصروں کا بھی اندراج تھا، ان تبصروں میں بعض اداروں کو اسرائیل کا ناقد، اسرائیل مخالف مہم میں سرگرم اور بی ڈی ایس میں انتہائی فعال قرار دیا گیا۔دستاویز کے مطابق آکسفیم پر عالمی سطح پر بی ڈی ایس سرگرمیوں میں حصہ لینے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی منظوری کے بغیر منصوبوں کی حمایت کا الزام لگایا گیا۔ آکسفیم نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بی ڈی ایس تحریک کی حمایت نہیں کرتا تاہم اسرائیلی آبادکاریوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم گیشا کی سربراہ تانیا ہاری نے کہا کہ یہ نگرانی سیکیورٹی نہیں بلکہ فلسطینیوں کے لیے امدادی کام کرنے والے اداروں کی مسلسل نگرانی کا ثبوت ہے۔رپورٹ کے مطابق کئی تبصروں کا ماخذ اسرائیلی ادارہ این جی او مانیٹر تھا جسے ماہرین نے فلسطین نواز سرگرمیوں پر نظر رکھنے والا دائیں بازو کا ادارہ قرار دیا۔کنگز کالج لندن کی محقق میسون سکریہ نے کہا کہ 2013 میں اسرائیل کو بی ڈی ایس تحریک کے بڑھتے ہوئے اثرات کا احساس ہونا شروع ہوگیا تھا، اسی لیے مختلف اداروں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی تھیں جو ممکنہ طور پر بعد میں 2017 میں بی ڈی ایس حامیوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی کے قانون کی بنیاد بنیں۔یورپی قانونی معاونت مرکز کے ڈائریکٹر جیوانی فاسینا کے مطابق اسرائیل 2011 سے بی ڈی ایس کے خلاف قوانین بنا رہا تھا اور یہ دستاویز تنظیموں اور افراد کی بلیک لسٹنگ کے عمل کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے۔دستاویز میں ڈین چرچ ایڈ، نارویجین ریفیوجی کونسل، میڈیکل ایڈ فار فلسطینی، ورلڈ وژن انٹرنیشنل، میڈیکو انٹرنیشنل اور دیگر کئی اداروں کا بھی ذکر موجود ہے۔میڈیکو انٹرنیشنل نے کہا کہ وہ بی ڈی ایس تحریک کی حمایت نہیں کرتا تاہم بائیکاٹ کی حمایت کرنے کے حق کا دفاع ضرور کرتا ہے۔دوسری جانب فلسطین یکجہتی ایسوسی ایشن سویڈن نے کہا کہ وہ بی ڈی ایس تحریک کی حمایت پر آج بھی قائم ہے اور اسے فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول کا مثر ذریعہ سمجھتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے امدادی سامان کی ترسیل، غیر ملکی امدادی کارکنوں اور ڈاکٹروں کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد کیں جبکہ 37 امدادی اداروں سے غزہ میں کام جاری رکھنے کے لیے اپنے فلسطینی ملازمین کی ذاتی معلومات بھی طلب کیں۔غزہ کے صحت حکام کے مطابق جنگ میں اب تک 73,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed