امریکی فوج نے ایران پر مسلسل ساتویں رات بھی فضائی حملوں کی لہر مکمل کر لی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں ایرانی نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفرااسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ ذخائر اور بحری فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔کارروائی میں جنگی طیاروں، ڈرونز، جنگی بحری جہازوں اور دیگر عسکری وسائل کا استعمال کیا گیا۔امریکی فوج کا کہنا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بھی مکمل طور پر نافذ ہے، جبکہ مشرقِ وسطی میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مکمل طور پر چوکس اور ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔جنوبی اور وسطی علاقوں پر ہونے والے امریکا کے تازہ فضائی حملوں میں جاسک اور بندر عباس کے قریب متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بندر عباس رودان شاہراہ پر 2 پل شدید متاثر ہوئے، ہرمزگان صوبے میں 2 پل اور 1 سرنگ بھی حملوں کی زد میں آئی۔صوبائی حکام کے مطابق حملوں میں 3 افراد شہید، 8 زخمی ہوئے۔ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ جزیرہ لارک پر میری ٹائم ٹریفک کنٹرول ٹاور، جاسک میں بجلی کی تنصیبات اور ڈی سیلینیشن پلانٹ پمپ بھی امریکی میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔ایرانی میڈیا کے مطابق خرم آباد، یزد، اہواز، سریک، بوشہر، بندر عباس، داراب اور جزیرہ قشم میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ایران نے آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)نے 2 آئل ٹینکروں کے دھماکوں سے تباہ ہونے سے متعلق ایرانی دعوی مسترد کر دیا۔ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران 2 آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہوئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)کی بحریہ کے مطابق دونوں جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں وہ بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔آئی آر جی سی بحریہ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ امریکی جارحیت کے باعث آبنائے ہرمز انتہائی غیر محفوظ اور مکمل طور پر بند ہے۔تاہم سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں 2 ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کی خبر غلط ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پلوں، توانائی کی تنصیبات اور ایک بڑی ایرانی بندرگاہ پر واقع ایک ٹاور کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے حوالے سے دبا بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد کیے گئے۔






