فیفا ورلڈ کپ فائنل سے قبل سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ مقابلہ پالتو جانوروں کے درمیان بھی جاری رہا ۔مختلف ممالک کی بلیوں اور کتوں نے اپنے انداز میں پیش گوئیاں کرتے ہوئے یہ بتانا شروع کر دیا کہ ان کے خیال میں عالمی چیمپئن کون بنے گا۔ورلڈ کپ کی تاریخ میں جانوروں کی پیش گوئیوں کی روایت نئی نہیں۔ 2010 کے ورلڈ کپ میں آکٹوپس پال کی حیران کن پیش گوئیوں نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی۔اس کے بعد بلیوں، کچھوں، اونٹوں اور دیگر جانوروں کو بھی مختلف مقابلوں کے نتائج کی پیش گوئی کرتے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ ان پیش گوئیوں کو تفریح کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن شائقین فٹبال انہیں بے حد دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔اس بار بھی کئی پالتو جانوروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ بگ دی برسلز گرفن نامی کتے نے حاصل کی ہے، جس کے مالک اسے ایک ماڈل اور اسپورٹس کمنٹیٹر کہتے ہیں۔بگ پورے ٹورنامنٹ کے دوران مختلف میچز کے نتائج کی پیش گوئیاں کرتا رہا ہے۔ اس کے سامنے دونوں ٹیموں کی نمائندگی کرنے والی گیندیں رکھی جاتی ہیں جن پر مختلف ملکوں کے جھنڈے لگے ہوتے ہیں اور وہ اپنے پنجے سے ایک گیند کو چھو کر اپنی پسندیدہ ٹیم کا انتخاب کرتا ہے۔ اسے ہی فاتح مانا جاتا ہے۔فرانس اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے نمبر کے میچ سے قبل بگ نے انگلینڈ کی حمایت کی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ تھامس ٹوخل کو ہٹا کر بگ کو انگلینڈ کا کوچ بنا دینا چاہیے۔تاہم جب فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹائن اور اسپین کے درمیان فاتح کے انتخاب کی باری آئی تو بگ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسپین کی گیند کو منتخب کر لیا، جس کے بعد اسپین کے مداحوں کی خوشی دیدنی تھی۔دوسری جانب بلی ہارٹ نوز نامی دو سالہ بلی بھی ورلڈ کپ کی پیش گوئیوں کی وجہ سے انٹرنیٹ پر مقبول ہو رہی ہے۔ اس کی مالک کے مطابق بلی اگرچہ پیش گوئی کرنے میں ابھی نئی ہے لیکن سونے کے معاملے میں مکمل پیشہ ور ہے۔فائنل کے فاتح کا انتخاب کرتے وقت بلی کچھ لمحوں تک دونوں جھنڈوں کو غور سے دیکھتی رہی، جس پر اس کی مالک نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید وہ گہری سوچ میں ہے یا پھر ورلڈ کپ کی مسلسل پیش گوئیوں سے تھک چکی ہے۔







