پاکستان کے ٹیلی کام نیٹ ورک کو گزشتہ ایک سال کے دوران چوری اور توڑ پھوڑ کے مسلسل حملوں کا سامنا رہا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک کے چار حساس اضلاع میں مجموعی طور پر 287 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں تقریبا دو تہائی صرف ضلع بنوں میں پیش آئے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ واقعات خیبرپختونخوا کے بنوں اور لکی مروت جبکہ بلوچستان کے تربت اور قلعہ عبداللہ میں پیش آئے جہاں ٹیلی کام تنصیبات کو بار بار نشانہ بنائے جانے کے باعث ان اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں 178، لکی مروت میں 100، تربت میں آٹھ اور قلعہ عبداللہ میں ایک واقعہ ریکارڈ کیا گیا۔ٹیلی کام کمپنیوں میں زونگ سب سے زیادہ متاثر رہی، جس نے 177 واقعات رپورٹ کیے، جبکہ جاز کے 110 واقعات سامنے آئے۔ دستاویزات کے مطابق یوفون اور ٹیلی نار نے اس عرصے کے دوران ان اضلاع میں چوری یا توڑ پھوڑ کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا۔دستاویزات کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر 287 واقعات پیش آئے، تاہم ان میں سے صرف 98 واقعات ہی باضابطہ طور پر درج کیے گئے، یعنی تقریبا 34 فیصد واقعات سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن سکے۔رپورٹ کے مطابق ایندھن کی چوری سب سے بڑا مسئلہ رہی، جس کے 114 واقعات سامنے آئے۔ اس کے بعد بجلی کی چوری کے 56 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ٹیلی کام تنصیبات پر نصب بیک اپ بجلی کے نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹیلی کام آلات کی چوری کے 10 واقعات جبکہ توڑ پھوڑ یا شدت پسند حملوں کے 9 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے علاوہ 98 معمولی نوعیت کے دیگر واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔جاز کے مطابق اس کے ہاں آلات کی چوری کے سات، توڑ پھوڑ یا شدت پسند حملوں کے پانچ اور 98 معمولی نوعیت کے واقعات پیش آئے۔ دوسری جانب زونگ نے آلات کی چوری کے تین، ایندھن کی چوری کے 114، بجلی کی چوری کے 56 اور توڑ پھوڑ یا شدت پسند حملوں کے 9 واقعات رپورٹ کیے۔دستاویزات کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں نے شکایت کی ہے کہ متعدد واقعات مقامی انتظامیہ کی جانب سے درج ہی نہیں کیے گئے، جس کے باعث اصل تعداد اور سرکاری ریکارڈ میں نمایاں فرق پیدا ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر پر مسلسل حملوں کے باعث کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ متاثرہ مقامات کی بار بار مرمت اور بحالی پر بھاری وسائل صرف کرنا پڑتے ہیں۔ کئی اضلاع میں ایک ہی سال کے دوران ایک ہی مقامات کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔دستاویزات کے مطابق حساس علاقوں میں ایندھن اور بجلی سے متعلق آلات کی چوری ٹیلی کام خدمات کے لئے بدستور ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ واقعات کی کم سرکاری رپورٹنگ مسئلے کی حقیقی شدت کا درست اندازہ لگانے اور موثر حفاظتی اقدامات کی منصوبہ بندی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔






