3 پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ اندراج کا حکم درست قرار

پشاور ہائی کورٹ نے شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے الزام میں نامزد تین پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے احکامات درست قرار دیتے ہوئے رٹ پٹیشن خارج کردی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ماتحت عدالت نے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق فیصلہ دیا اور اس میں کسی قسم کی قانونی بے ضابطگی نہیں۔جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے محفوظ فیصلہ جاری کردیا۔ درخواست ایس ایچ او رفیق خان، انسپکٹر ہمایوں اور کانسٹیبل عثمان کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جنہوں نے اپنے خلاف درج مقدمے کے اندراج کا حکم منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔تحریری فیصلے کے مطابق تینوں پولیس اہلکاروں پر شہری میاں امجد کو 14 روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کا الزام ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مدعی کے وکیل عمر خان اتمانزئی ایڈووکیٹ کے مطابق عدالتی بیلف نے میاں امجد کو ایک سی این جی پمپ سے ہتھکڑیوں سمیت بازیاب کرایا تھا، جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج پشاور نے تینوں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔پولیس اہلکاروں نے جسٹس آف پیس کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مقدمہ کالعدم قرار دینے اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ماتحت عدالت نے اپنے قانونی اختیار کے اندر رہتے ہوئے فیصلہ دیا ہے اور اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed