آسمان کی وسعتوں میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے خلا کو تھوڑا میٹھا بنا دیا ہے۔ سائنسدانوں نے خلا میں ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گرد کے بادلوں میں ایک پیچیدہ قسم کی چینی دریافت کی ہے، جسے ایریتھرولوز کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ ہماری کہکشاں کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ خاص قسم کی چینی دودھیا کہکشاں (ملکی وے) کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل میں دریافت کی گئی۔ اس اہم کامیابی کے لیے اسپین میں لگی ڈش نما دو بڑی ریڈیو دوربینوں کا استعمال کیا گیا جن کی مدد سے ہماری کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں موجود نمونوں سے دوربین کے اشاروں کا موازنہ کر کے اس گیس نما شکر کی نشاندہی کی۔ مزید پڑھیں:امریکہ کا پہلی بار سمندری ڈرونز سے ایران پر حملہ، ویڈیو نے دنیا کو چونکا دیا ماہرین کے مطابق یہ وہی قدرتی چینی ہے جو عام طور پر ہمارے ہاں رسبری نامی پھل اور رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ خود زندگی کے لیے ضروری جزو نہیں، لیکن یہ آسانی سے ایسی شکل اختیار کر سکتی ہے جو زمین پر زندگی کے آغاز میں اہم کردار ادا کرنے والی چینی سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے لیے چینی صرف چائے کو میٹھا کرنے یا مٹھائیاں بنانے کے کام ہی نہیں آتی بلکہ یہ ہمارے جسم کے چھوٹے چھوٹے خلیوں کو چلانے اور ہماری نسل کو آگے بڑھانے والے نظام یعنی ڈی این اے کو بنانے کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ خلا میں چینی کیسے بنتی ہے اور اس کا زندگی کے آغاز سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایریزونا کی ماہر فلکیات ایریکا ہیمڈن، جو خود اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کہتی ہیں کہ یہ دریافت اس مواد کی ایک شاندار اور اصل مثال ہے جو ہماری پوری کہکشاں میں آزادانہ طور پر تیر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ چینی بذات خود تو زندگی شروع کرنے کے لیے کافی نہیں ہے لیکن یہ بہت آسانی سے ایسی شکل میں بدل سکتی ہے جو زمین پر زندگی کی شروعات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔







