سود سے پاک مالیاتی نظام کے لیے مرحلہ وار منتقلی کا روڈ میپ جاری

حکومتِ پاکستان نے 31دسمبر 2027کے بعد ملک کو سود سے پاک مالیاتی نظام میں منتقل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اور مرحلہ وار روڈ میپ جاری کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی بتدریج، منظم انداز میں اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے کی جائے گی جبکہ تمام موجودہ معاہدوں اور مالی ذمہ داریوں کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب "پاکستان میں 2027 کے بعد کے مالیاتی نظام” سے متعلق حکمت عملی کے دستاویز کے مطابق یہ روڈ میپ وفاقی شرعی عدالت کے اپریل 2022 کے فیصلے، جس میں ربا کو ہر صورت میں ممنوع قرار دیا گیا تھا، اور 26ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت یکم جنوری 2028 سے قبل ربا کا مکمل خاتمہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد 2027 کے بعد پاکستان کے مالیاتی نظام سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرتے ہوئے بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، مائیکروفنانس بینکوں، نان بینکنگ فنانس کمپنیوں، انشورنس اداروں، میوچل فنڈز، رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس ، مضاربہ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے لیے واضح عملی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس میں مختلف متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں بھی متعین کی گئی ہیں تاکہ منتقلی کا عمل ہموار طریقے سے مکمل ہو سکے۔حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ حکومت ایسا قانونی، ریگولیٹری اور کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو اس منتقلی کو آسان بنائے اور مالیاتی نظام کے استحکام کو بھی برقرار رکھے۔ اس مقصد کے لیے نگرانی اور ریگولیٹری فریم ورک کو بین الاقوامی احتیاطی معیارات اور شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ رکھا جائے گا۔دستاویز کے مطابق ضروری قانونی، ریگولیٹری اور لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے انتظامات مکمل ہونے کے بعد ملکیت کے اعتبار سے زیادہ تر مقامی مالیاتی اداروں کو اسلامی بینکوں اور اسلامی مالیاتی اداروں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ آئینی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ تاہم جن بینکوں اور مالیاتی اداروں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی اکثریت ہے، ان کی منتقلی رضاکارانہ ہوگی اور ان کی اپنی کاروباری حکمت عملی پر منحصر رہے گی۔حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تمام موجودہ مالیاتی معاہدوں اور ذمہ داریوں کو طے شدہ شرائط کے مطابق پورا کیا جائے گا۔ 2027 کے اختتام سے قبل حاصل کی گئی روایتی مالی معاونت اپنی مدت پوری ہونے تک برقرار رہے گی، جس کے بعد اسے شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع سے تبدیل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد معاہدوں کے تقدس اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔حکمت عملی کے مطابق 2027 کے بعد حکومت اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے گی کہ نئی اندرونی مالی ضروریات شریعت سے ہم آہنگ ذرائع اور مالیاتی آلات کے ذریعے پوری کی جائیں۔ اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں تجارتی طور پر موزوں مواقع دستیاب ہونے کی صورت میں نئی بیرونی مالی معاونت بھی بتدریج شریعت سے مطابقت رکھنے والے ذرائع سے حاصل کی جائے گی، جبکہ موجودہ روایتی بیرونی قرضوں اور ذمہ داریوں کی ادائیگی معاہدوں کے مطابق جاری رہے گی۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مستقبل میں شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی آلات کے ذریعے زری (مانیٹری) پالیسی تشکیل دے گا اور اس پر عمل درآمد کرے گا۔ اسی طرح سرمایہ مارکیٹ، انشورنس اور دیگر نان بینک مالیاتی شعبوں کو بھی اس منتقلی کے عمل میں شامل کیا جائے گا، جبکہ ان شعبوں میں دسمبر 2027 سے پہلے کیے گئے روایتی معاہدے اپنی مقررہ مدت تک بدستور نافذ العمل رہیں گے۔حکمت عملی میں منتقلی کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے کئی ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ضروری قانونی ترامیم، شریعت سے ہم آہنگ سرکاری مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل، اسلامی بیرونی مالی معاونت کے انتظامات، ریگولیٹری و نگرانی کے نظام کا ازسرنو جائزہ، مالیاتی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا، شریعت سے ہم آہنگ مانیٹری پالیسی فریم ورک کی تیاری، اور عوامی آگاہی و استعداد کار میں اضافہ شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ 2027 کے بعد پاکستان کا سود سے پاک مالیاتی نظام جامع قانونی، ریگولیٹری اور نگرانی کے فریم ورک کے تحت نافذ ہو، مالیاتی استحکام برقرار رہے اور پائیدار معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed